BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 January, 2007, 16:23 GMT 21:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جعلی جھڑپ میں ہلاکت پر احتجاج

پڈر کی فیملی
عبدالرحمٰن پڈر کے اہل خانہ انصاف کے طلبگار ہیں
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک فرضی جھڑپ کے دوران ایک مزدور کی ہلاکت پر ہند نواز اور ہند مخالف تقریباً ہر جماعت نے کانگریس کی سرکردگی میں قائم مخلوط حکومت کی مزمت کرتے ہوئے واقعہ کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ہند نواز نیشنل کانفرنس نے حکومت کو ’قاتل سرکار‘ کا نام دیتے ہوئے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت نے ایک سینئر پولیس افسر کو جنوبی کشمیر کے عبدالرحمٰن پڈر نامی مزدور کی حراست کے دوران ہلاکت کے معاملے کی تحقیق کے لیے انکوائری افسر مقرر کیا ہے، جبکہ واقعہ میں ملوث ایس پی اور ڈی ایس پی کو معطل کر دیا ہے۔ تاہم حزب اختلاف نے ان اقدامات کو ناکافی قرار دیا ہے۔

ہند مخالف علیحدگی پسند حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جموں کشمیر میں جنگجوؤں اور فوج کے درمیان پچھلے سترہ سال میں ہونے والی تمام مبینہ جھڑپوں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی عالمی اداروں کے ذریعے تفتیش کرائی جائے۔

بدھ کو جموں میں قانون ساز اسمبلی کی کارروائی اس وقت معطل کردی گئی جب نیشنل کانفرنس کے تمام ممبران نے ایوان میں زبردست مظاہرہ کیا۔

اجتماعی قبریں
 جموں و کشمیر میں بیشتر مقامات پر اجتماعی قبریں ہیں جہاں دس ہزار لاپتہ افراد میں سے اکثر کو دورانِ حراست ہلاک کر کے دفنایا گیا ہے
حقوق انسانی کی تنظیمیں
نیشنل کانفرنس کے پارلیمانی رہنما عبدالرحیم راتھر نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک پولیس افسر پر لگے قتل جیسے سنگین الزام کی تفتیش دوسرے افسر کے ذریعے کروا کے واقعہ میں ملوث افسروں کو دراصل بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی کی کارروائی اس وقت تک نہیں چلنے دی جائے گی جب تک کہ حکومت اس معاملے پر ایوان میں بحث اور بعد میں عدالتی تحقیقات پر آمادہ نہیں ہو جاتی۔

کشمیر میں حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں بیشتر مقامات پر اجتماعی قبریں ہیں جہاں دس ہزار لاپتہ افراد میں سے اکثر کو دورانِ حراست ہلاک کر کے وہاں دفنایا گیا ہے۔

شمالی کشمیر کے علاقے سنمبل کے، جو فوج کے لیے کام کرنے والی مسلح جماعت ’اخوان‘ کے بانی رہنماء کوکا پرے کا آبائی قصبہ ہے، ایک گاؤں میں بھی پینتالیس لاپتہ لاشوں کی تدفین کا انکشاف ہوا ہے۔

پڈر کے والد
رحمٰن پڈر کے والد بیٹے کی یادوں اور مستقبل کے تفکرات میں گم

سنمبل کی بٹ محلہ نامی بستی کے پچہتر سالہ عبدالغنی کا کہنا ہے کہ اس نے ایسی پینتالیس لاشوں کی تجہیز و تکفین میں شرکت کی جنہیں فوج اور پولیس آخری رسومات کے لیے مقامی لوگوں کے حوالے کرتے رہے ہیں۔

عبدالغنی اس بات پر حیرت زدہ تھے کہ جس لاش کو انہوں نے پاکستان کے شہر ملتان سے تعلق رکھنے والے ابو حافظ کے طور پر دس دسمبر کو دفنایا وہ دراصل ککر ناگ کے ترکھان عبدالرحمٰن پڈر تھے، جنہیں گرفتاری کے بعد فرضی جھڑپ میں ہلاک کیا گیا ہے۔

سید علی شاہ گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق سمیت کئی علیٰحدگی پسند رہنماؤں نے اپنے بیانات میں حالیہ انکشاف کو اپنے اس موقف کی توثیق قرار دیا ہے کہ ’ کاؤنٹر اِن سرجنسی‘ کے نام پر معصوم لوگوں کو ہلاک کیا جارہا ہے۔

فروری دو ہزارپانچ میں شمالی قصبہ بانڈی پورہ کے ایک گاؤں کے قریب واقع آرمی کیمپ کے نزدیک اجتماعی قبروں کے انکشاف کے بعد بھی کئی ہفتوں تک وادی میں احتجاج کی لہر چلی تھی۔

اسی بارے میں
کشمیری ذہنی تناؤ کا شکار
27 December, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد