’متبادل حل کے لیے ہر خطرہ قبول ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں دس روزہ قیام کے بعد واپس سرینگر لوٹنے والے حریت لیڈر میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے ’متبادل حل‘ کی تلاش میں وہ کسی بھی خطرے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ پاکستانی عوام، وہاں کی حکومت اور کشمیریوں کی مسلح قیادت ان کی حمایت کرتی ہے۔ جمعرات کو سرینگر لوٹنے پرہزاروں لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ اس دورے میں ان کے ساتھ جانے والے پروفیسر عبدالغنی اور بلال لون پہلے ہی سرینگر پہنچ چکے ہیں۔ میرواعظ کو جلوس کی صورت میں ائر پورٹ سے پرانے شہر میں واقع میرواعظ منزل تک لے جایا گیا۔ انہوں نے راستے میں شہیدگنج اور بعد میں میر واعظ منزل کے قریب عوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔ اپنی تقریر میں مسٹر فاروق نے کہا کہ ’ہم نے مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کا جو وعدہ عوام سے کیا ہے اسے پورا کریں گے اور اس میں چاہے جو بھی خطرات درپیش ہوں ان کا ہم ڈٹ کر مقابلہ کرینگے‘ کیوں کہ ہماری کوششوں میں کشمیری عوام، پاکستان کے لوگ، مسلح قیادت اور عالمی برادری بھی شامل ہے‘۔ پاکستان میں میرواعظ عمر فاروق کے قیام کے دوران بعض پاکستانی اخبارات نے لکھا تھا کہ میر واعظ عمر نے ایک عشائیہ کے دوران مسلح قیادت سے عسکری جدوجہد ترک کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ’ہم اب مزید قبرستاں بھرنے کی اجازت نہیں دے سکتے‘۔ لیکن میر واعظ نے اس کی تردید کی تھی ۔انہوں اپنے دورے کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آنے والے تین ماہ نہایت اہم ہیں اور اس دوران فریقین کے درمیان سمجھوتہ کی ’باٹم لائن‘ طے پا سکتی ہے۔ میر واعظ عمر فاروق نے تقریر میں کہا کہ انہوں نے پاکستان میں قیام کے دوران جنرل مشرف، پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر اور وہاں کے وزیر اعظم کے علاوہ سید صلاح الدین کی سربراہی والے متحدہ جہاد کونسل کے ایک رہنما مشتاق زرگر کے ساتھ خصوصی ملاقات کی۔
پچھلے ماہ جب میر واعظ فاروق حریت کانفرنس کے تین رکنی وفد کے ہمراہ پاکستانی دورے کے سلسلے میں نئی دلی روانہ ہوئے تھے تو دوسرے روز یعنی انیس جنوری کو نگین میں واقع ان کی رہائش پر بم سے حملہ کیا گیا۔ حملے کی ذمہ داری سیو کشمیر موومنٹ نے یہ کہہ کر قبول کی کہ ’کسی کو بھی کشمیریوں کی قربانیوں کا سودا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔ تاہم بعد میں جہاد کونسل کے ترجمان سید صداقت حسین نے ایک بیان میں میر واعظ کا نام لیے بغیران لوگوں کو خبردار کیا تھا جو بقول ان کے حریت پسند لیڈروں کو ڈرا نے دھمکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے سرینگر لوٹنے سے ایک روز قبل بھی راج باغ میں واقع حریت دفتر پر نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا تاہم پولیس کے مطابق اس حملے میں کو ئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ میر واعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ حکومت ہند کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ’بال وزیراعظم کے کورٹ میں ہے‘۔ انہوں نے ان میڈیا خبروں کی تردید کی کہ انہوں نے پاکستان روانہ ہونے سے قبل اور واپسی پر وزیر اعظم سے ملنے کے لیے ’لابنگ‘ کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ، ’ہم مذاکرات کے وکیل ہیں ہمیں کسی سے ملنے میں کوئی شرم نہیں۔ ہم مسئلہ حل کرنے کے لیے کسی سے بھی کہیں بھی ملنے کے لیے تیار ہیں۔لیکن جو سچ ہے وہ سچ ہے۔ہمیں دعوت دی جائے گی تو ہم لوگوں کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کریں گے۔‘ | اسی بارے میں ہندنواز لیڈروں کا سخت لہجہ 10 December, 2006 | انڈیا حُریت لیڈر ریاض خان سےملیں گے11 November, 2006 | انڈیا ’ہند و پاک ورکنگ گروپ بنے گا‘09 October, 2006 | انڈیا مذاکرات میں تینوں فریق کو شامل کریں25 May, 2006 | انڈیا مذاکرات: آئین نہ ماننے والوں سے21 May, 2006 | انڈیا ’حریت کی شرکت کا امکان ففٹی ففٹی‘16 May, 2006 | انڈیا ذہنوں کی ملاقات تھی: منموہن سنگھ 03 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||