BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 February, 2007, 15:23 GMT 20:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’متبادل حل کے لیے ہر خطرہ قبول ہے‘

میرواعظ عمر فاروق
سرینگر لوٹنے پر ہزاروں لوگوں نے میرواعظ عمر فاروق کا استقبال کیا۔
پاکستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں دس روزہ قیام کے بعد واپس سرینگر لوٹنے والے حریت لیڈر میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے ’متبادل حل‘ کی تلاش میں وہ کسی بھی خطرے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ پاکستانی عوام، وہاں کی حکومت اور کشمیریوں کی مسلح قیادت ان کی حمایت کرتی ہے۔

جمعرات کو سرینگر لوٹنے پرہزاروں لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ اس دورے میں ان کے ساتھ جانے والے پروفیسر عبدالغنی اور بلال لون پہلے ہی سرینگر پہنچ چکے ہیں۔ میرواعظ کو جلوس کی صورت میں ائر پورٹ سے پرانے شہر میں واقع میرواعظ منزل تک لے جایا گیا۔ انہوں نے راستے میں شہیدگنج اور بعد میں میر واعظ منزل کے قریب عوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔

اپنی تقریر میں مسٹر فاروق نے کہا کہ ’ہم نے مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کا جو وعدہ عوام سے کیا ہے اسے پورا کریں گے اور اس میں چاہے جو بھی خطرات درپیش ہوں ان کا ہم ڈٹ کر مقابلہ کرینگے‘ کیوں کہ ہماری کوششوں میں کشمیری عوام، پاکستان کے لوگ، مسلح قیادت اور عالمی برادری بھی شامل ہے‘۔

پاکستان میں میرواعظ عمر فاروق کے قیام کے دوران بعض پاکستانی اخبارات نے لکھا تھا کہ میر واعظ عمر نے ایک عشائیہ کے دوران مسلح قیادت سے عسکری جدوجہد ترک کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ’ہم اب مزید قبرستاں بھرنے کی اجازت نہیں دے سکتے‘۔

لیکن میر واعظ نے اس کی تردید کی تھی ۔انہوں اپنے دورے کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آنے والے تین ماہ نہایت اہم ہیں اور اس دوران فریقین کے درمیان سمجھوتہ کی ’باٹم لائن‘ طے پا سکتی ہے۔

میر واعظ عمر فاروق نے تقریر میں کہا کہ انہوں نے پاکستان میں قیام کے دوران جنرل مشرف، پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر اور وہاں کے وزیر اعظم کے علاوہ سید صلاح الدین کی سربراہی والے متحدہ جہاد کونسل کے ایک رہنما مشتاق زرگر کے ساتھ خصوصی ملاقات کی۔

میرواعظ کو جلوس کی صورت میں ائر پورٹ سے پرانے شہر میں واقع میرواعظ منزل تک لے جایا گیا
مشتاق زرگر کو انیس سو ننانوے میں انڈین ائر لائنز کے طیارہ کے اغوا معاملے میں جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے ہمراہ اغوکاروں کے ساتھ ایک ڈیل کے عوض رہا کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلح جدوجہد سے متعلق ان کے بیان کی وجہ سے میر واعظ اور سید صلاح الدین کے درمیان ملاقات کے امکانات ختم ہوگئے، تاہم انہوں نے مشتاق زرگر اور بعض دیگر مسلح لیڈروں کے ساتھ ملاقات کا دعویٰ کیا ہے۔ پاکستان میں قیام کے دوران انہوں نے مشرف کی تجاویز کو بحث شروع کرنے کے لیے بہتر نسخہ قرار دیتے ہوئے انہیں حتمی ماننے سے انکار کیا اور ساتھ ہی حکومت پاکستان پر بھی زور دیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ خفیہ اور اعلانیہ مذاکراتی عمل سے متعلق اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لے۔

پچھلے ماہ جب میر واعظ فاروق حریت کانفرنس کے تین رکنی وفد کے ہمراہ پاکستانی دورے کے سلسلے میں نئی دلی روانہ ہوئے تھے تو دوسرے روز یعنی انیس جنوری کو نگین میں واقع ان کی رہائش پر بم سے حملہ کیا گیا۔

حملے کی ذمہ داری سیو کشمیر موومنٹ نے یہ کہہ کر قبول کی کہ ’کسی کو بھی کشمیریوں کی قربانیوں کا سودا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔ تاہم بعد میں جہاد کونسل کے ترجمان سید صداقت حسین نے ایک بیان میں میر واعظ کا نام لیے بغیران لوگوں کو خبردار کیا تھا جو بقول ان کے حریت پسند لیڈروں کو ڈرا نے دھمکانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان کے سرینگر لوٹنے سے ایک روز قبل بھی راج باغ میں واقع حریت دفتر پر نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا تاہم پولیس کے مطابق اس حملے میں کو ئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

میر واعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ حکومت ہند کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ’بال وزیراعظم کے کورٹ میں ہے‘۔ انہوں نے ان میڈیا خبروں کی تردید کی کہ انہوں نے پاکستان روانہ ہونے سے قبل اور واپسی پر وزیر اعظم سے ملنے کے لیے ’لابنگ‘ کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ، ’ہم مذاکرات کے وکیل ہیں ہمیں کسی سے ملنے میں کوئی شرم نہیں۔ ہم مسئلہ حل کرنے کے لیے کسی سے بھی کہیں بھی ملنے کے لیے تیار ہیں۔لیکن جو سچ ہے وہ سچ ہے۔ہمیں دعوت دی جائے گی تو ہم لوگوں کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کریں گے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد