BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 February, 2007, 11:36 GMT 16:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
احتجاج، ہڑتال سے زندگی متاثر

کشمیر میں فرضی مقابلوں میں ہلاکتوں کے خلاف احتجاج
ہندوستان کے زیرانتطام کشمیر میں فرضی تصادم میں بےگناہ شہریوں کے ’قتل‘ پر احتجاجی مظاہرے اور ہڑتال ہوئی ہے۔

منگل کو کشمیر میں اکثر کاروباری مراکز احتجاج کے طور پر بند رہے، سکولوں میں حاضری کم رہی اور سڑکوں پر ٹریفک کی کمی سے زندگی متاثر ہوئی۔

حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں اور شبیر احمد شاہ نے معصوم شہریوں کو حراست میں قتل کرکے غیرملکی جنگجو جتلانے کی کارروائیوں کے خلاف جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یٰسین ملک کے احتجاجی پروگرام کی حمایت کی ہے۔

یٰسین ملک تین دن کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں اور انہوں نے حکومت ہند سے کہا ہے کہ ہلاکتوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ غیرمعینہ مدت تک بھوک ہڑتال کرینگے۔

سرینگر میں عینی شاہدین کے مطابق منگل کو کشمیر میں مکمل ہڑتال رہی جس سے معمول کی زندگی معطل ہوکر رہ گئی۔ان کا کہنا تھا کہ پرانے شہر کے علاقوں، جامع مسجد، گوجوارہ، قمرواری، نوشہرہ اور یٰسین ملک کی آبائی بستی مائسومہ میں پولیس نے مظاہرین کو جلوس نکالنے سے روکا تو انہوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔

اس دوران یٰسین ملک نے مائسومہ میں تین دن اور تین راتوں کے لئے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔

یٰسین نے مائسومہ سے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’اگر اگلے چھ ہفتوں تک ہندوستانی وزیراعظم نے اپنے 'زیرو ٹالرنس' کا وعدہ پورا نہیں کیا اور لوگوں کو انصاف نہ دلایا تو میں غیرمعینہ مدت کے لئے بھوک ہڑتال کروں گا۔‘

وزیراعظم منموہن سنگھ نے فوج کی زیادتیوں کے خلاف زیروٹالرنس کی پالیسی کا وعدہ کیا تھا
لبریشن فرنٹ کے سربراہ یٰسین نے بتایا کہ پچھلے قریب چار سال سے جاری امن کے عمل کے دوران جموں کشمیر کے لوگ زیادہ عدم تحفظ کے شکار ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ’امن کے عمل میں جیلوں سے چھوٹے ساٹھ ہزار سابق جنگجو شامل ہیں لیکن انہیں فورسز کے ذریعہ ہراساں کیا جارہا ہے۔‘

یٰسین ملک کا کہنا تھا کہ ان نوجوانوں کو فوج کا مخبر بننے اور ہند نواز پارٹیوں میں شامل ہونے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا: ’یہ لوگ دوبارہ ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ایسا کیا تو اس کی ذمہ داری حکومت ہند پر ہوگی۔‘

کشمیر رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل فاروق احمد نے سرینگر سے فون پر بتایا کہ ’کئی مقامات پر مشتعل مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس سے بعض اہلکاروں کو ہلکی چوٹیں آئیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وادی کے اضلاع کے درمیان مسافر ٹرانسپورٹ کا نظام ہڑتال کی وجہ سے متاثر ہوا ہے تاہم حالات قابو میں ہیں۔ واضح رہے فاروق احمد اس خصوصی ٹیم کے سربراہ ہیں جو فرضی تصادموں کے معاملے کی تفتیش کررہی ہے۔ دریں اثناء میرواعظ گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک لیڈر نعیم احمد خان کو پولیس نےاحتجاجی جلوس نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کرلیا۔

کشیمر فرضی مقابلے
مزید قبریں کھودنے کا کام معطل، شکایتوں کے انبار
ذہنی تناؤ کا شکار
کشمیریوں کی بڑی تعداد ذہنی تناؤ میں مبتلا ہے
پروفیسر بٹملاقاتوں کا موسم
کشمیر کے حل کے لیے سرگرمیاں تیز
مسئلہ کشمیر کا حل
’متفقہ اور مشترکہ نظام تشکیل دینا ہوگا‘
کشمیری عورت’ہم کہاں جائیں‘
ہندوستان میں مقیم کشمیریوں کی شکایات
میر واعظ کا اعلان
’کشمیر کے متبادل حل کے لیے ہر خطرہ قبول‘
geelaniٹوٹ یا اٹوٹ انگ
مسئلہ کشمیر پر کشمیری کیا کہتے ہیں
اسی بارے میں
کشمیر پر بھارت کی خاموشی
12 December, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد