BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 February, 2007, 15:43 GMT 20:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فائر بندی کیلیے میر واعظ کی اپیل
میر واعظ عمر فاروق
میر واعظ عمر فارق نے پاکستان کے نو روز کے دورے سے لوٹنے پر پہلی نیوز کانفرنس سے خطاب کیا
ممتاز علیحدگی پسند کشمیری رہنما میر واعظ عمر فاروق نے انڈین حکومت کو کشمیر سے فوجیں ہٹانے کا موقع دینے کے لیے عسکریت پسندوں سے فائر بندی کی اپیل کی ہے۔

میر واعظ عمر فاروق آل پاکستان حریت کانفرنس کے سربراہ ہیں جو علیحدگی پسندوں کا ایک اعتدال پسند اتحاد ہے۔

سرینگر سے بی بی سی کے الطاف حسین کا کہنا ہے کہ حریت کانفرنس انڈیا اور پاکستان سے الگ الگ مذاکرات کر رہی ہے۔

میر واعظ عمر فاروق نے یہ اپیل ایک نیوز کانفرنس کے دوران کی ہے جو پاکستان کے نو روز کا دورہ کر کے لوٹنے کے بعد ان کی پہلی نیوز کانفرنس تھی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور اسے مرحلہ وار ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے کا پہلا قدم یہ کہ انڈیا کی اس دلیل کو کا جواب فراہم کریں کہ جو وہ یہ کہہ کر دیتا ہے کہ وہ اس وقت تک فوجیں نہیں ہٹائے گا جب تک کہ کشمیر میں تشدد جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم محسوس کرتے ہیں کہ کشمیری گروہوں کو ایک معین عرصے کے لیے فائر بندی کا اعلان کر دیں اور اس دوران انڈیا کو اس اعلان کا جواب دینے کا موقع دیا جائے۔

میر واعظ نے کہا کہ ’ہم اس سلسلے میں اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تا کہ انڈیا کے پاس یہ دلیل نہ رہے کہ وہ زمینی حقائق کے وجہ سے فوجیں نہیں ہٹا سکتا‘۔

انہوں نے کہا کہ ان کی خیال ہے کہ عسکری قیادت اس نقطے پر غور کرنا اور ہم سے تعاون کرنا چاہیے۔

میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ یہ قدم انڈین حکومت بھی اٹھا سکتی ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر فائر بندی کا اعلان کرے اور عسکریت پسند اس کے جواب میں اسی طرح کا اعلان کر دیں۔

انہوں اس بات کا اعادہ کیا کہ آئندہ تین ماہ میں کشمیر کے معاملے پر ایک بڑی پیش رفت کی توقع کرتے ہیں۔

اس خوش امیدی کا جواز فراہم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک تو انڈیا اور پاکستان نے پہلی بار دستاویزات اور خیالات کا تبادلہ کیا ہے، اس کے علاوہ انڈین وزیراعظم پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں اور پاکستانی صدر انڈیا کا دورہ کرنے والے ہیں اور ظاہر ہے کہ دونوں جانب سے اس سلسلے میں کچھ نہ کچھ ہوم ورک کیا گیا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ کچھ باتوں کا انکشاف مناسب وقت پر کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد