جعلی مقابلے، تحقیقات کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں فوج نے ’جعلی مقابلوں‘ میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کے الزام کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات ریاستی حکومت کی تفتیش سے الگ ہوگی۔ اس سے قبل ریاست کے وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے اس معاملے کا انکشاف ہوتے ہی اسمبلی میں یہ اعتراف کیا تھا کہ پولیس اور فورسز میں ایسے ’عناصر‘ موجود ہیں جو اپنے افسروں کو خوش کرنے، ترقیاں پانے اور انعام حاصل کرنے کے لالچ میں معصوم لوگوں کو قتل کرکے انہیں جنگجو بتاتے ہیں۔ انہوں نے فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فوج نے کشمیر کے گنڈاربل علاقے میں مبینہ جعلی مقابلے میں شہریوں کے قتل کے معاملے کے تحقیقات کا حکم دیا ہے اور جو بھی قصور وار پایا گیا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ جعلی مقابلوں کے پانچ کیس سامنے آئے ہیں جن میں سے چار میں مبینہ طور پر فوج ملوث ہے۔ اس معاملے میں ریاست کی پولیس پہلے ہی چار اہلکاروں کو گرفتار کرچکی ہے جس میں سپرٹینڈنٹ آف پولیس اور سب انسپکٹر بھی شامل ہیں۔ ان افراد پر یہ الزام ہے کہ جنوبی کشمیر کے مزدور عبدالرحمٰن پڈر کو گرفتار کرکے جعلی مقابلے ہلاک کرنے میں ان کا ہاتھ تھا۔ پولیس نے عبدالرحمن پڈر کو پاکستانی شدت پسند بتایا تھا۔ | اسی بارے میں جعلی جھڑپ میں ہلاکت پر احتجاج31 January, 2007 | انڈیا فرضی تصادم، پولیس اہلکارگرفتار 29 January, 2007 | انڈیا فرضی تصادم، 16پولیس اہلکارگرفتار 03 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||