BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 February, 2007, 11:50 GMT 16:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جعلی مقابلے، تحقیقات کا حکم

عبدالرحمٰن پڈر کے اہل خانہ
جنوبی کشمیر میں ہلاک ہونے والے عبدالرحمٰن پڈر کے اہلِ خانہ انصاف کے متقاضی ہیں
ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں فوج نے ’جعلی مقابلوں‘ میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کے الزام کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔


فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات ریاستی حکومت کی تفتیش سے الگ ہوگی۔

اس سے قبل ریاست کے وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے اس معاملے کا انکشاف ہوتے ہی اسمبلی میں یہ اعتراف کیا تھا کہ پولیس اور فورسز میں ایسے ’عناصر‘ موجود ہیں جو اپنے افسروں کو خوش کرنے، ترقیاں پانے اور انعام حاصل کرنے کے لالچ میں معصوم لوگوں کو قتل کرکے انہیں جنگجو بتاتے ہیں۔ انہوں نے
اس سلسلے میں عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فوج نے کشمیر کے گنڈاربل علاقے میں مبینہ جعلی مقابلے میں شہریوں کے قتل کے معاملے کے تحقیقات کا حکم دیا ہے اور جو بھی قصور وار پایا گیا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

جعلی مقابلوں کے پانچ کیس سامنے آئے ہیں جن میں سے چار میں مبینہ طور پر فوج ملوث ہے۔

اس معاملے میں ریاست کی پولیس پہلے ہی چار اہلکاروں کو گرفتار کرچکی ہے جس میں سپرٹینڈنٹ آف پولیس اور سب انسپکٹر بھی شامل ہیں۔

ان افراد پر یہ الزام ہے کہ جنوبی کشمیر کے مزدور عبدالرحمٰن پڈر کو گرفتار کرکے جعلی مقابلے ہلاک کرنے میں ان کا ہاتھ تھا۔ پولیس نے عبدالرحمن پڈر کو پاکستانی شدت پسند بتایا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد