BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشمیر سے انخلا، قیاس آرائیاں ہیں‘
منموہن سنگھ
دہشگردی ختم ہو جائے تو فوج میں کمی ہو سکتی ہے: منموہن سنگھ
بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ کشمیر سے فوجی انخلاء پر رضامندگی سے متعلق بیانات قیاس آرائیاں ہیں۔

ہندوستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے علحیدگی پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہندوستان اور پاکستان اصولی طور پر وہاں سے فوجی انخلاء پر اتفاق کر چکے ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ فوجی انخلاء سے متعلق تمام اطلاعات قیاس آرائیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوج قانون کا احترام کرنے والے شہریوں کے تحفظ کے لیے موجود ہے۔

منموہن سنگھ نے کہا کہ اگر دہشتگردی ختم ہو جائے تو وہ کشمیر سے فوج کی تعداد کو کم کرنے کے خلاف نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انڈین آرمی قبضہ گیر فوج نہیں ہے اور وہ صرف پرامن شہریوں کی حفاظت کے لیے کشمیر میں موجود ہے۔

ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے علحیدگی پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہندوستان اور پاکستان اصولی طور پر وہاں سے فوجی انخلاء پر اتفاق کر چکے ہیں۔

ہندوستان اور پاکستان اصولی طور پر وہاں سے فوجی انخلاء پر اتفاق کر چکے ہیں۔

حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اب دونوں ملکوں کو اس کا طریقۂ کار طے کرنا ہے‘۔

عمر فاروق حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے رہنما ہيں اور ان کا دھڑا گزشتہ تین برس سے ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کر رہا ہے۔

امید
 ’ہم یہ امید نہیں کرتے کہ ایک ہی جھٹکے میں تمام فوجی ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہٹا لیے جائيں گے
میر واعظ
میر واعظ نے سنیچرکو ایک بار پھر کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری مذاکرات بے حد نازک موڑ پر ہیں۔

ہندوستان کی حکومت نے یہ واضح کیا ہے جب تک کشمیر میں مسلح شدت پسند موجود ہيں تب تک فوجی انخلاء ممکن نہیں ہے۔

لیکن مسٹر فاروق کہتے ہیں کہ’میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ ہندوستان پاکستان کے ساتھ فوجی انخلاء کے سلسلے میں بات چیت کر رہا ہے‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوجی انخلاء کشمیر کے دونوں حصوں ميں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انخلاء مرحلہ وار ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ امید نہیں کرتے کہ ایک ہی جھٹکے میں تمام فوجی ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہٹا لیے جائيں گے‘۔

واضح رہے کہ متحدہ جہاد کونسل جس نے مسٹر فاروق کی ’ٹائم باؤنڈ‘ جنگ بندی کے اعلان کو مسترد کر دیا تھا اس ہفتے کے شروع میں پاکستان کے صدر پرویز مشرف کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دیے گئے چار نکاتی فارمولہ کی حمایت کی تھی۔ تنظیم کے صدر سید صلاح الدین کا کہنا تھا کہ یہ فارمولہ اس مسئلہ کے آخری حل کی طرف پہلا قدم ہو سکتا ہے۔

فوجی انخلاء صدر مشرف کے فارمولہ میں پہلا نکتہ ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا شدت پسندوں کی جانب سے کی گئی جنگ بندی کا اعلان ہند-پاک کے درمیان سمجھوتے کا ایک حصہ ہے تو میر واعظ کا کہنا تھا ’ظاہر سی بات ہے، جب ہم فوجی انخلاء یا فوج کی تعداد کم کرنے کی بات کرتے ہيں تو اس میں دونوں ملکوں کو پہل کرنی پڑے گی اور ہم یہ بھی امید کرتے ہيں کہ اس میں مجاہدین بھی مدد کريں گے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد