BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 March, 2007, 13:33 GMT 18:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوجی انخلاء کے بغیر سکوپ نہیں‘
 میر واعظ عمر فاروق
’اگر ہندوستانی حکومت یہ کہتی ہے کہ فوجی انخلاء ممکن نہیں تو ظاہر ہے میں نہیں سمجھتا کہ آگے چلنے کا کوئی اور طریقہ ہے‘
حریت کانفرنس کے معتدل دھڑے کے رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ اگر بھارت کشمیر سے فوجی انخلاء پر رضا مند نہیں ہوتا تومسئلہ کشمیر کے حل کی کوششوں کا رخ ایسے راستے کی طرف ہو جائے گا جہاں سے آگے جانا ممکن نہ ہو۔

ہندوستانی وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ کشمیر سے فوج کا انخلاء قیاس آرائی ہے، میر واعظ عمر فاروق نے بی بی سی اردو سروس کی نعیمہ احمد مہجور سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بیان کا مطلب یہ ہوگا کہ آگے جانے کا کوئی سکوپ نہیں ہے‘۔

تاہم کشمیری رہنما نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ منموہن سنگھ کے کشمیر سے فوجوں کی واپسی سے متعلق بیان کا تعلق ہندوستان میں آج کل ہونے والے ریاستی انتخاب سے ہو۔ ’یو پی میں الیکشن ہو رہا ہے اور پنجاب اور اتراکھنڈ میں حکمراں کانگریس پارٹی کو شدید دھچکا لگا ہے۔ لہذا ممکن ہے کہ وزیرِ اعظم اپنی پوزیش پر واپس جا رہے ہوں۔‘

حریت کانفرنس کے رہنما کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت نے کشمیری قیادت سے بڑی سنجیدگی سے بات چیت کی ہے اور وہ انڈیا سے بھی ڈائیلاگ کر رہی ہے۔ کشمیری رہنما نے وثوق سے کہا کہ دونوں ملک کچھ اشوز پر متفق بھی ہیں اور مرحلہ وار انخلاء پر کم و بیش اتفاق ہو چکا ہے۔

’تمام تر امیدیں اسی پر ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ڈائیلاگ جاری ہے اور دونوں کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی ہو رہی ہے۔‘

تاہم میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ ہندوستانی حکومت یہ کہتی ہے کہ فوجی انخلاء ممکن نہیں تو ’ظاہر ہے میں نہیں سمجھتا کہ آگے چلنے کا کوئی اور طریقہ ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل کی کوششوں کا مدار اسی معاملے پر ہے۔ ’اگر ہندوستانی حکومت کشمیر سے فوجی انخلاء نہیں کرتی تو پھر سارا امن عمل ہی اس طرف چل پڑے گا جہاں سے آگے کا کوئی راستہ نہ ہو۔ تمام تر امیدیں اسی پر ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ڈائیلاگ جاری ہے اور دونوں کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی ہو رہی ہے۔‘

اس سوال پر کہ آیا وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کے بیان کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ مصالحت کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں، کشمیری رہنما نے کہا کہ وہ ایسا نہیں سمجھتے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پیش رفت کی ذمہ داری ہندوستان پر عائد ہوتی ہے کیونکہ کشمیری قیادت اور پاکستانی حکومت کا طرزِ عمل کافی لچکدار ہے۔

میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ کیونکہ کشمیر سے فوجی انخلاء کو بنیاد بنا کر بات ہو رہی تھی لہذا اگر ایسا نہیں ہوتا تو امن کا تماتر عمل متاثر ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد