BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 February, 2007, 15:07 GMT 20:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرضی تصادم: ایس ایس پی پر فرد جرم
پہلی بار ہے کسی سینئر پولیس افسر کے خلاف کسی عام شہری کے قتل کے معاملے میں فرد جرم عائد کی گئی ہے
ہندوستان کے زیرِانتظام جموں اور کشمیر میں پولیس نے فرضی تصادم کے معاملے میں ایس ایس پی سمیت سات پولیس اہلکاروں پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔

ریاست کی ایک ذیلی عدالت میں سینئر سپریٹنڈنٹ آف پولیس ایچ آر پریہار ، ڈپٹی سپریٹنڈنٹ آف پولیس رام بہادر، ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور چارحولداروں کے خلاف قتل اور سازش کے الزام عائد کئے گئے ہیں۔

فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس دسمبر کی رات عبدالّرحمان پاڈر کو پولیس نے سری نگر کے قریب سمبل میں ایک فرضی تصادم میں ہلاک کر دیا تھا۔

اس وقت پولیس نے مقتول کو ابو حافظ نامی پاکستانی دہشت گرد بتایا تھا اور انہيں علاقے کے ہی ایک قبرستان میں دفن کر دیا تھا۔

ایک مہینے قبل پاڈر کی قبر میں سے ان کی لاش کا ڈی این ائے ٹیسٹ کیا گیا جس سے ان کی شناخت ممکن ہو سکی۔

کشمیر میں مسلح جنگ کی اٹھارہ سالہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ کسی سینئر سپرٹینڈینٹ آف پولیس کے خلاف کسی عام شہری کے قتل کے معاملے میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

نائب پولیس انسپکٹر آف پولیس فاروق احمد نے بی بی سی کو بتایا ’اس وقت کشمیر میں پولیس ایسے فرضی تصادم کے پانچ مزید معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔‘

مسٹر فاروق کے مطابق ان میں چار معاملات میں فوج بھی ملوث پائی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے میں مقدمے کی سماعت بہت جلد شروع کی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد