BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 February, 2007, 14:32 GMT 19:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ: ہزاروں اقرباء سڑکوں پر

کشمیر میں احتجاجی مظاہرہ
مظاہرین لاپتہ افراد کی بازیابی کے عمل کو تیز کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے
وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کی طرف سے پچھلے سترہ سال کے دوران گمشدہ افراد کے کیسز کی از سر نو تفتیش کرنے کے اعلان سے پوری وادی میں ہلچل مچ گئی ہے اور ناُامیدی کے شکار ہزاروں لواحقین اپنے لاپتہ عزیز و اقارب کی تصاویر لیے سڑکوں پر آنے لگے ہیں۔

پیر کو شہر کے نواحی علاقے بٹہ مالو میں ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ مظاہرین سترہ سال سے لاپتہ نوجوانوں کی بازیابی کے لیے تفتیشی کارروائی تیز کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مظاہرے میں شامل ایک عمررسیدہ خاتون راحتی نے بتایا کہ بٹہ مالو اور اس کے گردونواح میں ایک درجن نوجوانوں کو حراست کے دوران لاپتہ کردیا گیا۔

ان کا کہنا تھا’اب سرکار کہتی ہے وہ سارے کیسیوں کی تحقیقات کرے گی۔ ہم چاہتے ہیں یہ صرف اعلان نہ ہو۔ پہلے کی حکومت نے بھی ایسا ہی کچھ کہا، کیا کچھ نہیں‘۔

وزیراعلیٰ کے قریبی ساتھی اور مقامی کانگریس کے نائب صدر عبدالغنی وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیراعلیٰ اپنے وعدے پر قائم ہیں اور اس سلسلے میں اب صرف طریقہ کار وضع کرنے کی دیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ انیس سو نوے سے اب تک لاپتہ ہوئے افراد کے معاملات کی تفتیش کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دینے کے حق
میں ہیں اور وہ عنقریب اس تجویز کو ریاستی کابینہ میں پیش کرنے والے ہیں۔

مظاہرین میں سے بعض نے اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں

واضح رہے گزشتہ ہفتے حکومت نے اسمبلی میں یہ بتایا تھا کہ انیس سو نوے سے اب تک ایک ہزار سترہ افراد لاپتہ ہیں۔ وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے خود اسمبلی ہال میں کہا تھا کہ جو لوگ سرحد پار ہیں انہیں لاپتہ نہیں کہنا چاہیے۔ ان کو واپس لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں خاص طور پر اے پی ڈی پی کا موقف ہے کہ دس ہزار کے قریب لوگوں کو حراست کے دوران لاپتہ کر دیا گیا ہے۔

جنوبی کشمیر کے ایک بڑھئی عبدالرحمٰن پڈر کی ہلاکت کا معاملہ سامنے آیا تو فرضی تصادموں میں بے گناہ شہریوں کو قتل کرنے کے الزام میں ایک ایس ایس پی اور ان کے نائب سمیت سولہ پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔

شناخت اور فارینسک جانچ کے تحت ڈی این اے نمونوں کے لیے اب تک پانچ قبروں کو کھول کر ان بے گناہ کشمیری شہریوں کا لاشیں نکالی گئی ہیں جنہیں پاکستانی جنگجو بتا کر دفنا دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد