ریاض مسرور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی |  |
 | | | مسجد کے باہر ہلاک ہونے والی کی لاٹین اور کانگڑی |
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی قصبہ ترال میں مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا ہے کہ فوج نے ایک شہری کو مسجد سے نکال کر ہلاک کر دیا ہے۔ تاہم فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ شہری کی موت فوج اور جنگجوؤں کے درمیان گولیوں کے تبادلے کے دوران ہوئی۔ ترجمان کے مطابق اس تصادم میں تین فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ ترال کے رہنے والے اعجاز احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی شب مسلح جنگجوؤں نے فوجی کی ایک گشتی پارٹی پر گھات لگا کر حملہ کر دیا جس میں فوج کا ایک افسر اور دو اہلکار ہلاک ہوگئے۔ اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ جنگجو اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوگئے اور جب فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تو اس دوران بھی فائرنگ ہوئی۔ اعجاز کے مطابق جب بیالیس سالہ محمد افضل کمار کی لاش مسجد کے سامنے پائی گئی تو پورے علاقے کے لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیئے جو جمعہ کے روز بھی جاری رہے۔
 | | | ہلاک ہونے والے شخص کی بیوہ بین کرتے ہوئے |
جموں کشمیر پولیس کے سپرینٹنڈنٹ آف پولیس سردار خان نے اونتی پورہ سے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’تصادم چونکہ رات کے دوران ہوا اور اس معاملے میں شہری کی ہلاکت مشکوک بنی ہوئی ہے۔ ہمارے پاس جو رپورٹ ہے اس کے مطابق تو وہ کراس فائرنگ میں ہلاک ہوگیا، لیکن لوگ اس بات کو نہیں مانتے۔‘ ترال کی اندورنی بستی میں واقع اس مسجد میں عبدالوحید نامی مقامی شہری بھی جمعرات کو افضل کے ساتھ ہی عشاء کی نماز میں شریک تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ ’افضل کی عادت تھی کہ جب سب لوگ نکلتے تو وہ ذرا ٹھہر کر نکلتا تھا۔ مسجد کے باہر اس کے چار دانت اور ٹوٹی ہوئی لالٹین بھی ملی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اسے پہلے ٹارچر کیا گیا اور بعد میں گولی مار دی گئی۔‘ اس دوران اعلیٰ سول اور پولیس افسران نے احتجاج کرنے والے شہریوں کو یقین دلایا ہے کہ اگر فوج کو شہری کی ہلاکت میں ملوث پایا گیا تو مناسب کاررروائی کی جائے گی۔ مقامی لوگوں نے انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد افضل کی تجہیز و تکفین کر لی۔ ہزاروں لوگوں نے اس کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ |