BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 February, 2007, 12:10 GMT 17:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈی این اے، شہری کی ہلاکت ثابت

ملزم پولیس
کشمیر میں پولیس اور فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی لمبی فہرست ہے
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں فرضی جھڑپوں میں ہلاک کیے گئے شہریوں کے جنیاتی تجزیہ (ڈی این اے) ٹیسٹ کی رپورٹ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص ایک معصوم شہری تھا۔

چندی گڑھ میں واقع ہندوستان کی قومی فورینسک سائنس لیبارٹری نے پانچ نمونوں میں سے ایک کی رپورٹ جمعرات کو فرضی جھڑپوں کی تفتیش کرنے والی جموں کشمیر پولیس کی خصوصی ٹیم کے حوالے کی ہے۔

رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ پچھلے آٹھ دسمبر کو پولیس کی ٹاسک فورس اور فوج نے جس شخص کو غیرملکی جنگجو بتاکر بٹ محلہ بانڈی پورہ میں دفن کروایا تھا وہ دراصل ککر ناگ کا بے گناہ ترکھان عبدالرحمٰن پڈر ہی ہے۔
کشمیر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس فاروق احمد

اس معاملے کی پچھلے پانچ ماہ سے تفتیش کرنے والی خصوصی ٹیم کے سربراہ فاروق احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے مرحلے میں کشمیر کے جنوبی قصبہ ککرناگ کے رہنے والے ترکھان عبدالرحمٰن کے نمونوں کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔

مسٹر فاروق کا کہنا ہے ’رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ پچھلے آٹھ دسمبر کو پولیس کی ٹاسک فورس اور فوج نے جس شخص کو غیرملکی جنگجو بتاکر بٹ محلہ بانڈی پورہ میں دفن کروایا تھا وہ دراصل ککر ناگ کا بے گناہ ترکھان عبدالرحمٰن پڈر ہی ہے۔‘

فاروق نے بتایا کہ جنیاتی تجزیہ کا کام چونکہ نازک اور حساس ہوتا ہے لہٰذا باقی نمونوں کی رپورٹ بھی مرحلہ وار طریقہ سے آئےگی۔ تفتیشی ٹیم سے جڑے افسروں کا کہنا ہے کہ اسی رپورٹ کی بدولت اب پولیس ایک ایس ایس پی، اس کے نائب اور دیگر چودہ پولیس اہلکاروں کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ فائل کرنے کی اہل ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ اس کیس کی پہلی سماعت کے طور ایس ایس پی ہنس راج پریہار اور ڈپٹی ایس پی رام بہادر سمیت دیگر ملزمان کو سترہ فروری کے روز چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیاتھا۔

بےگناہوں کے قتل کے خلاف وادی میں زبردست احتجاج ہوا ہے

عدالت نے ملزمان کو چودہ روزہ عدالتی ریمانڈ کے تحت سینٹرل جیل بھیجنے کا حکم دے دیا جبکہ پولیس نے انہیں اکیس فروری تک ریمانڈ میں رکھنے کی درخواست کی تھی۔ اگلی سماعت 2 مارچ کو ہوگی۔

یکم فروری سے پانچ فروری تک پولیس کی خصوصی ٹیم نے بانڈی پورہ اور گاندربل علاقوں میں پانچ قبریں کھول کر ایسے شہریوں کی لاشیں برآمد کی تھیں جنہیں تفتیشی ٹیم کے مطابق فوج اور پولیس نے فرضی جھڑپوں میں ہلاک کرکے غیر ملکی جنگجو بتایا تھا۔اس کے لیے پولیس اہلکاروں کو انعام سے بھی نوازا گیا تھا۔

فرضی جھڑپوں کے اس انکشاف سے پوری وادی میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ لاپتہ افراد کے اقربا کو خدشہ ہے کہ ان کے عزیزوں کو بھی فرضی جھڑپوں میں ہلاک کر کے جنگجو بتایا گیا ہوگا۔

اس سلسلے میں لواحقین کی بڑی تعداد فی الوقت نئی دلّی میں احتجاجی مہم چلارہے ہیں۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبا اور دیگر سول سوسائٹی اداروں نے انہیں حمایت کا یقین دلایا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد