لاپتہ کشمیریوں کے اقرباء دلّی روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں دورانِ حراست لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین دلّی میں دھرنا دیں گے۔ فرضی جھڑپوں کے انکشاف کے بعد بھارتی زیرِانتظام کشمیر میں لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے اپنے اقرباء کی بازیابی کے لیے تحریک شروع کی اور اسی حوالے سے لاپتہ افراد کے لواحقین پر مشتمل ساٹھ کنبوں کا ایک کارواں اتوار کو نئی دلّی روانہ ہوا ہے۔ روانگی کے وقت بس میں سوار سبھی لواحقین نے اپنے گمشدہ اقرباء کی بڑی تصاویر ہاتھ میں اُٹھا رکھی تھیں۔ پچھلے سترہ سال کے دوران وقفہ وقفہ سے فوجی حراست کے دوران لاپتہ ہونے والے افراد کے یہ لواحقین بائیس فروری کو دلّّی میں جنتر منتر کے مقام پر احتجاجی دھرنا دیں گے۔ نئی دلّی میں پہلے سے موجود جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یٰسین ملک بھی اس دھرنے میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو فون پر بتایا کہ ہندوستان کی سول سوسائٹی کے نمائندے اور کئی انسانی حقوق کی انجمنوں نے بھی اس ’تاریخی دھرنے میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے‘۔ کارواں میں شامل دس سال قبل بی ایس ایف کی حراست میں لاپتہ ہوئے فیاض احمد بیگ کی ماں نے روانگی کے موقع پر بتایا کہ وہ پچھلے کئی سال سے مقامی طور پر اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے فریاد کرتی رہی ہیں لیکن ان کی داد رسی کسی نے نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا’ہوسکتا ہے نئی دلّی میں ہمارے درد کو سمجھنے والے مل جائیں‘۔
واضح رہے کہ یکم فروری کو جنوبی کشمیر کے ایک ترکھان عبدالرحمٰن پاڈر کے قتل کی گتھی جب پولیس نے سلجھائی تو یہ انکشاف ہوا کہ اسے انسدادِ تشدد کے لیے دس سال قبل قائم کی گئی پولیس سپیشل ٹاسک فورس نے فرضی جھڑپ میں ہلاک کر نے کے بعد غیرملکی جنگجو قرار دے کر بانڈی پورہ میں دفن کر دیا تھا۔ اس انکشاف کے بعد چار مزید ایسی لاشیں قبروں سے نکالی گئیں اور پوری وادی میں اس حوالے سے احتجاج بھی ہوا۔ اب لاپتہ افراد کے لواحقین بھی اس معاملے میں پیش پیش ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے اقرباء کو بھی اگر فرضی جھڑپوں میں قتل کیا گیا ہے تو انہیں ان کی قبریں دکھائی جائیں۔حکومت نے پہلے ہی اس سلسلے میں عدالتی تحقیقات شروع کی ہے اور دو اعلیٰ افسروں سمیت پولیس کے سولہ اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے چند دن قبل یہ اعلان کیا تھا کہ پچھلے سترہ سال میں کل ایک ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں اور باقی لوگ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں مقیم ہیں جنہیں واپس لانے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور ان لواحقین کی انجمن اے پی ڈی پی کے مطابق یہ تعداد آٹھ سے دس ہزار کے درمیان ہے۔ | اسی بارے میں کشمیر: مظاہرے میں متعدد زخمی14 February, 2007 | انڈیا لاپتہ: ہزاروں اقرباء سڑکوں پر12 February, 2007 | انڈیا کشمیر: فوجیوں کے خلاف تحقیقات 10 February, 2007 | انڈیا احتجاج، ہڑتال سے زندگی متاثر06 February, 2007 | انڈیا جعلی جھڑپ میں ہلاکت پر احتجاج31 January, 2007 | انڈیا ’کشمیر سےدس ہزار افراد لاپتہ‘ 28 October, 2006 | انڈیا لاپتہ: مردہ قرار دینے کا قانون26 October, 2006 | انڈیا گمشدگانِ کشمیر پر خصوصی پروگرام21 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||