BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 February, 2007, 14:16 GMT 19:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فیصلہ عوام پر چھوڑا جائے‘

ملائم سنگھ یادو
کانگرس نے ملائم سنگھ یادو کی حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے
بھارت کی حکمران جماعت کانگرس کی طرف سے ریاست اترپردیش میں ملائم سنگھ یادو کی حکومت ہٹانے کے مطالبے کی سماج وادی پارٹی نے مخالفت کی ہے۔ ادھر مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے پولٹ بیورو نے بھی کانگرس کے مطالبے کو غلط قرار دیا ہے۔

لوک سبھا میں سماج وادی پارٹی کے لیڈر رام گوپال یادو نے کہا ’ہم یہ بات کئی بار کہہ چکے ہیں کہ اترپردیش میں حالیہ گورنر کو بھیجنے کے پسِ پردہ ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کا منصوبہ تھا‘۔

انھوں نے کہا کہ اگر ریاستی حکومت کو برخاست کیا جاتا ہے تو مرکزی حکومت بھی چین سے نہیں رہے گی اور وہ اس کے خلاف جمہوری طریقے سے احتجاج کریں گے۔

حال میں کانگرس پارٹی نے اتر پردیش حکومت کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اسے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو نے 26 فروری کو اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے جس میں وہ اپنی اکثریت ثابت کرنے والے ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں بہوجن سماج پارٹی کے ان تیرہ ارکانِ اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کا حکم دیا تھا جن کی حمایت سے 2003 میں ملائم سنگھ یادو کی حکومت بنی تھی۔

اتوار کو مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری پرکاش کارات نے صحافیوں کو بتایا ’اترپردیش میں عنقریب انتخابات ہونے والے ہیں اس لیے ریاست میں حکومت کا فیصلہ وہاں کے عوام پر چھوڑ دینا چاہیے‘۔

ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی نے اتر پردیش اسبملی میں اپنے ان دس ارکان کی رکنیت ختم کرنے کی سفارش کی ہے جنہوں نے راجیہ سبھا کے انتخابات کے دوران ملائم سنگھ یادو کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔

پرکاش کارات کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اراکینِ اسمبلی کی رکنیت کے خاتمے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے تاکہ یہ اراکین اس وقت ووٹ نہ دے پائیں جب ملائم سنگھ یادو اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کریں گے۔

تاہم اتر پردیش کے وزیراعلی ملائم سنگھ یادو نے واضح کر دیا ہے کہ ان کے استعفٰی دینے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد