BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 February, 2007, 14:49 GMT 19:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
13 ارکان اسمبلی کی رکنیت ختم
بھارتی سپریم کورٹ
وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے اتر پردیش کی ریاستی اسمبلی کے ان تیرہ ارکان کی رکنیت ختم کر دی ہے جن کی حمایت سے سال دوہزار تین میں سماج وادی پارٹی نے مخلوط حکومت بنائی تھی۔

اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہونے والے ارکان بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سے الگ ہو کر سماج وادی پارٹی کی حکومت میں شامل ہوئے تھے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ریاست میں حکومت اپنا دور اقتدار پورا کرنے والی ہے اور جلد ہی ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔

لیکن ماہرین کا کہناہے کہ اس فیصلے سے حکومت کے استحکام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

یاد رہے کہ سال دوہزار تین میں حکومت سازی کے وقت سینتیس ارکان اسمبلی نے بی ایس پی چھوڑ دی تھی اور لوک تانترک بہوجن سماج دل کے نام سے ایک نئی جماعت بنا لی تھی، جس نے بعد میں حکمران سماج وادی پارٹی سے الحاق کر لیا۔

عدالت نے صرف ان ممبران کی رکنیت ختم کی ہے جنہوں نے سماج وادی پارٹی کی حکومت کی حمایت کا اظہار کرنے کے لیے ریاست کے گورنر سے ملاقات کی تھی۔

گورنر سے ملاقات مہنگی پڑی
 عدالت نے صرف ان ممبران کی رکنیت ختم کی ہے جنہوں نے سماج وادی پارٹی کی حکومت کی حمایت کا اظہار کرنے کے لیے ریاست کے گورنر سے ملاقات کی تھی

اس وقت ریاستی اسمبلی کے سپیکر کیسری ناتھ ترپاٹھی نے لوک تانترک بہوجن سماج دل کو ایک علیحدہ جماعت کے طور پر منظور کیا تھا۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے سپیکر کے فیصلے کو خارج کر تے ہوئے انہیں دوبارہ اس معاملہ پر غور کرنے کے لیے کہا تھا۔

اس دوران گورنر سے ملنے والے تیرہ میں سے پانچ ارکان واپس بہوجن سماج پارٹی میں چلے گئے، لیکن نئے سپیکر ماتا پانڈے نے ان کی رکنیت معطل رد کر دی۔ انہیں پانچ ارکان اسمبلی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

تیرہ جنوری کو سپریم کورٹ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال بہوجن سماج پارٹی سے الگ ہونے والے 37 میں سے 24 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال رکھی جائے، کیونکہ ان پر جماعت بدلنے کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد