BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 February, 2005, 11:02 GMT 16:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدالت عظمیٰ کا حکومت کو نوٹس

News image
ہندوستان میں موبائل فون صارفین کی تعداد فکسڈ لائنوں سے زیادہ ہے
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں سے جاننا چاہا ہے کہ غیر مطلوبہ یا ان چاہی کالز روکنے کے لئے کیا انتظام ہے۔

عدالت عظمی نے اس سلسلے میں مرکزی حکومت ، ٹیلی کوم ریگولیٹری اتھارٹی اور سلیولر آپریٹر کو نوٹس جاری کیا ہے۔

عدالت نے یہ نوٹس مفاد عامہ کی ایک عرضی کی بنیاد پر دیا ہے جس میں یہ درخواست کی گئی ہے کہ مرکزی حکومت ایک ایسا قانون بنا ئے جس کے تحت بزنس ہاؤسز اور کمپنیاں اپنی مصنوعات اور خدمات کے فروغ کے لئے موبائل فون پر بغیر اجازت فون نہ کر سکیں۔

عرضی گزار کا کہنا ہے کہ ان چاہی کالز موبائل سبسکرائبرز کی پرائیویسی میں دخل دیتی ہیں اور ان پر دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح پابندی عائد کی جانی چاہیئے۔

ہندوستان میں موبائل فون کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ سلیولر آپریٹرز اسوسیشن آف انڈیا کے مطابق دسمبر کے اواخر میں ملک میں موبائل فون کی تعداد تقریبا چار کروڑ 74 لاکھ تھی جبکہ روایتی فکسڈ لائن کے چار کروڑ 46 لاکھ کنکشن تھے۔ ایسوسی ایشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ موبائل فون کی تعداد میں ہر ہفتے ڈیڑھ سے دو لاکھ کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔

موبائل فون میں اضافے کے ساتھ غیر مطلوبہ اور غیر ضروری کالز اور ایس ایم ایس پیغامات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو ا ہے۔ ہندوستان میں اب تک ایسا کوئی قانون یا ضابطہ نہيں ہے جن کے تحت اس طرح کی کالز پر روک لگائی جاسکے۔

لیکن صارفین کے حقوق کی تنظیمیں ایک عرصے سے ایک واضع قانون کی ضرورت شدت سے محسوس کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد