انڈیا: پیپسی کولا کی عدالتی جیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی جنوبی ریاست کیرالا کی ہائی کورٹ نے پیپسی اور کوک کمپنی کی مشروبات پر لگي پابندی ختم کر دی ہے۔ اس سے قبل ان مشروبات میں مبینہ طور پر بعض زہریلے مادوں کے پائے جانے کے خبر کے بعد ریاستی حکومت نے پابندی لگا دی تھی۔ کیرالا ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ غذائی اشیاء میں ملاوٹ کی روک تھام کے لیے جو قانون ہے اس کے مطابق ریاستی حکومت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کھانے کی چیز پر پابندی عائد کرے اور اس طرح کی پابندی مرکزی حکومت ہی نافذ کرسکتی ہے۔ گزشتہ دنوں ماحولیات پر کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے سینٹر فار سائنس اینڈ اینوائرنمنٹ ( سی ایس ای) نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ کوک اور پیپسی کی مشروبات میں ایسے زہریلے مادے پائے جاتے ہیں جو صحت کے لیے بہت مضر ہیں۔ سی ایس ای کی رپورٹ کی بنیاد پر کیرالا حکومت نے ان مشروبات پر پابندی عائد کی تھی۔عدالت نے کہا ہے کہ حکومت نے صرف سی ایس ای کی رپورٹ کی بنیاد پر یہ قدم اٹھا یا تھا اور اس معاملے میں مرکزی حکومت کی رپورٹ کا انتظار نہیں کیا گیا۔ کیرالا کے وزیر اعلی اچوتا نندن نے نو اگست کو پیپسی اور کوکا کولا کی خرید و فروحت کے ساتھ ساتھ اس کے بنانے پر بھی پابندی لگا دی تھی۔ کوکا اور پیسپی کمپنیوں نے حکومت کے اس قدم کو ہائی کورٹ میں چیلنچ کیا تھا۔ کوک اور پیپسی کمپنیاں کہتی رہی ہیں کہ انکی مشروبات صحت کے لیے مضر نہیں ہیں اور ان کے بنانے میں عالمی پیمانے کے معیار استعمال کیے جاتے ہیں۔ کیرالا حکومت نے ان مشروبات پر پوری طرح پابندی نافذ کی تھی جبکہ کئی دیگر ریاستوں نے جزوی طور پر سکولوں اور ہسپتالوں میں پابندی لگا رکھی ہے۔ کوک اور پیپسی نے ان پابندیوں کو ریاستوں کی عدالتوں میں چیلنج کر رکھا ہے | اسی بارے میں انڈیا: پیپسی، کوک رپورٹ مسترد23 August, 2006 | انڈیا پییسی، کوکاکولا جواب دیں: عدالت04 August, 2006 | انڈیا کیرالا: کوک، پیپسی پر پابندی09 August, 2006 | انڈیا فیصلے کی گھڑی اور دہشت گردی کی قیمت06 August, 2006 | انڈیا سکولوں میں سافٹ ڈرنک پر پابندی06 March, 2006 | انڈیا بوتل میں کونڈوم، پیپسی کو جرمانہ27 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||