انڈیا: پیپسی، کوک رپورٹ مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزارت صحت کی ایک کمیٹی نے ماحولیاتی تنظیم کی اس رپورٹ میں بعض خامیوں کا اظہار کیا ہے جس میں مشروبات میں زہریلہ مادہ ہونے کی بات کہی گئی تھی۔ گزشتہ مہینے ملک کی ایک ماحولیاتی تنظیم سنٹر فار سائنس اینڈ انوائرمنٹ یعنی سی ایس آئی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سافٹ ڈرنکس ميں جراثیم کش مادہ طے شدہ مقدار سے زيادہ ہے اور یہ صحت کے لئے مضر ہے۔ سی ایس آئی کی رپورٹ آنے کے بعد ریاست کیرالا نے سافٹ ڈرنکس کے پروڈکشن اور فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی جبکہ کئی ریاستوں نے سکولوں ،کالجوں اور اسپتالوں میں مشروبات پر روک لگا دی گئی تھی۔ اس معاملے کی حقیقت جاننے کے لئے اس مہینے کی ابتدا میں وزارت صحت نے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اور اب اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سی ایس ائی کی رپورٹ کو غیر متوازن قرار دیا ہے۔ ماہرین کی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’سی ایس ائی کی رپورٹ میں ان پہلوؤں کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ انکی رپورٹ صحیح ہے۔‘ دوسری جانب سی ایس ائی نے ماہرین کی کمیٹی کی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔ سی ایس آئی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس رپورٹ سے ایسا ظاہر ہو رہا ہے کہ کمیٹی عوام کی صحت سے زيادہ مشروبات کی کمپنیوں کی صحت کے لئے فکر مند ہے۔‘ اس سے قبل صحت اور فیملی ویلفیئر کے وزیر نے پارلیمنٹ میں جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ مشروبات کے لئے ایک باقاعدہ معیار طے کرنے کے لئے کام کیا جا رہا ہے اور یہ کام آئندہ تین چار مہینوں میں پورا کر لیا جائے گا۔ صحت کے وزیر امبومنی رام ڈاس کا کہنا تھا کہ ’مشروبات میں پانی کے لئے معیار طے کئے جا رہےہیں اور جراثیم کش مادہ کی مقدار طے کرنے اور پھلوں کے رس کے استعمال کرنے جیسے پہلؤں پر غور کرنے کے لئے ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اپنی رپورٹ جنوری دو ہزار سات تک پیش کرے گی۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ رپورٹ آنے کے بعد ہی حکومت کاربونیٹڈ ڈرنکس کے لئے کوئی معیار طے کر سکے گی۔ دو ہزار تین میں بھی سی ایس ائی کی جانب سے اس قسم کی ایک رپوٹ پیش کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سافٹ ڈرنکس میں زہریلہ مادہ موجود ہے جو صحت کے لئے مضر ہے۔ سی ایس ائی نے حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اس مرتبہ بارہ ریاستوں سے لئے گئے پپسی اور کوک کے نمونوں میں پچھلی مرتبہ سے زيادہ مقدار میں زہریلہ مادہ پایا گیا ہے۔ | اسی بارے میں پییسی، کوکاکولا جواب دیں: عدالت04 August, 2006 | انڈیا کیرالا: کوک، پیپسی پر پابندی09 August, 2006 | انڈیا فیصلے کی گھڑی اور دہشت گردی کی قیمت06 August, 2006 | انڈیا سکولوں میں سافٹ ڈرنک پر پابندی06 March, 2006 | انڈیا بوتل میں کونڈوم، پیپسی کو جرمانہ27 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||