BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 August, 2006, 15:13 GMT 20:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیرالا: کوک، پیپسی پر پابندی
اس مرتبہ پیپسی اور کوک کے نمونوں میں پچھلی مرتبہ سے بھی زیادہ مقدار میں زہریلا مادہ ملا
ہندوستان کی جنوبی ریاست کیرالہ میں کوکا کولا اور پیپسی کی فروخت اور تیاری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

حال ہی میں ماحولیات کے ایک غیر سرکاری ادارے نے ایک رپورٹ ميں کہا تھا کہ سافٹ ڈرنکس میں زہریلے مادے پائے جاتے ہیں جو صحت کے لیئے مضر ہیں۔

ریاست کیرالہ کی کابینہ نے وزيرِاعلٰی وی ایس اچوتا نندن کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کوک اور پیپسی پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعلی کا کہنا تھا کہ اس پابندی کو نافذ کرنے کے لیئے حکومت مناسب اقدامات کرے گی۔

مسٹر اچوتانندن کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ان سافٹ ڈرنکس کے نمونوں کی جانچ سے یہ پتہ چلا تھا کہ اس ميں صحت کے لیئے مضر مادہ موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکمران لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کی ریاستی کمیٹی نے ماحولیات کی غیر سرکاری تنظیم ’سی ایس آئی‘ کی رپورٹ کی بنیاد پر سافٹ ڈرنکس پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی تھی۔

سی ایس آئی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اس مرتبہ پیپسی اور کوک کے نمونوں میں پچھلی مرتبہ سے بھی زیادہ مقدار میں زہریلا مادہ ملا ہے۔

اس پورے معاملے پر ملک میں سافٹ ڈرنکس بنانے والی کمپنیوں کی ایسوسی ایشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اب تک اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے ان سے رسمی طور پر کوئی رابطہ قائم نہیں کیا گیا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ پوری دنیا اور ہندوستان میں محکمۂ صحت اور غذا کے اداروں نے جو معیار مقرر کیئے ہیں ان کے پروڈ کٹس اسی معیار کی پابندی کرتی ہیں۔

اس سے قبل بھی ریاست کیرالا میں پلاچمڈہ گاؤں میں کوکا کولا کمپنی کے کارخانےکے خلاف مقامی افراد نے احتجاج کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ پلانٹ کے سبب زمین کا پانی آلودہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب ریاست کرناٹک میں بھی حکام نے سکولوں ، کالجوں اور اسپتالوں میں سافٹ ڈرنکس پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ریاست کے خاندانی فلاح و بہبود اور صحت کے وزیر آر اشوک نے بتایا کہ یہ کارروائی ان مختلف تجزیوں کے نتائج ملنے کے بعد کی گئی ہے جس میں ان سافٹ ڈرنکس میں ایسا جراثیم کش مادہ پایا گیا جو صحت کے لیئے مضر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سافٹ ڈرنکس کے نمونوں کی جانچ ميں جراثیم کش مادے کی مقدار طے شدہ مقدار سے زیادہ پائي گئی ہے‘۔ تاہم وزیرِ صحت نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ تجزیے کہاں کیئے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ’تمام سکولوں اور ہسپتالوں کے سو فٹ کے دائرے میں پیپسی اور کوکا کولا فروخت نہیں کی جا سکے گی‘۔ مسٹر اشوک نے مزید بتایا کہ سرکاری دفتروں میں بھی کوکاکولا اور پیپسی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اس سے قبل بعض نجی اسکولوں نے بھی سافٹ ڈرنکس پر پابندی عائد کر دی تھی۔

گزشتہ ہفتے مدھیہ پردیش، راجستھان، گجرات اور راجستھان نے بھی اسکولوں ، کالجوں اور ہسپتالوں میں سافٹ ڈرنکس کی فروخت پر پابندی لگا دی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد