BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 August, 2006, 09:23 GMT 14:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پییسی، کوکاکولا جواب دیں: عدالت

 کوکا کولا
’سافٹ ڈرنکس بنانے میں بعض زہریلے مادے استعمال کیئے جاتے ہیں‘
انڈین سپریم کورٹ نے مشروب ساز کمپنیوں کوکا کولا اور پیپسی سے کہا ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ ان کی سافٹ ڈرنکس میں’پیسٹی سائڈ‘ کی کتنی مقدار پائی جاتی ہے۔

چند روز قبل ایک غیر سرکاری ادارے نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں کہا تھا کہ انڈیا میں بکنے والے تقریباً سبھی سافٹ ڈرنکس میں ایسے زہریلے مادے پائے جاتے ہیں جوصحت کے لیئے مضر ہیں۔

مفاد عامہ کی ایک درخواست کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے پیپسی اور کوکا کولا کو مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کے لیئے چار ہفتے کا وقت دیا ہے۔

سائنس اور ماحولیات پر کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے ’سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ‘ نے تین برس قبل ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ سافٹ ڈرنکس بنانے میں بعض زہریلے مادے استعمال کیئے جاتے ہیں اور ان کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ صحت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اسی رپورٹ کی بنیاد پر دو برس قبل عدالت میں یہ درخواست دائر کی گئی تھی۔

اس رپورٹ کو سافٹ ڈرنکس بنانے والی کمپنیوں نے تو مسترد کردیا تھا لیکن پارلیمان کی مشترکہ کمیٹی نے اسے صحیح قرار دیا تھا اور اس کی بنیاد پر کمپنیوں کے لیئے بعض معیار طے کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

’سی ایس ای‘ نے چند روز قبل بھی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق تین برس بعد بھی حالات جوں کے توں ہیں اور سافٹ ڈرنکس میں پائے جانے والے زہریلے مادوں میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ وزارتِ صحت نے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی اور معیار کے مطابق پیسٹی سائڈ کی جو مقدار مشروب میں ہونی چاہیئے اس سے تقریباً پچیس فیصد زیادہ پائی جاتی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے جو اپنی تازہ رپورٹ تیار کی ہے اس میں بارہ ریاستوں سے مختلف سافٹ ڈرنکس کے پچاس سے زائد نمونوں کی جانچ کی گئی ہے۔ ادارے کی چیئرمین سونیتا نارائن نے حکومت پر نکتہ چینی کی ہے کہ سافٹ ڈرنک بنانے والی کمپنیوں کے لیئے جو معیار وضع کیئے گئے ہیں لیکن حکومت نے کمپنیوں کے دباؤ میں انہیں نافذ نہیں کیا ہے۔

پیپسی اور کوکاکولا کمپنیوں نے ادارے کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کولڈ ڈرنکس مضر نہیں ہیں۔ اس معاملے پر گزشتہ روز پارلیمنٹ میں بھی زبردست ہنگامہ ہوا۔ حکومت نے کہا ہے کہ اگر اسے اس بارے میں باضابطہ شکایت ملتی ہے تو وہ اس پر غور کرےگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد