BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 March, 2006, 12:19 GMT 17:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکولوں میں سافٹ ڈرنک پر پابندی

حکومت اور والدین کا خیال ہے کہ بچے فروٹ جوس پیئیں
مہاراشٹر کے سکولوں میں اب طلباء سافٹ ڈرنک نہیں پی سکیں گے کیونکہ ریاستی حکومت نے سکولوں کی کینٹین میں اس کی فروخت پر پابندی عائد کردی ہے۔ پابندی کے بارے میں ریاستی وزیر تعلیم وسنت پورکے نے پیر کے روز حکم جاری کردیا ہے۔

وسنت پورکے نے کہا کہ ان کے پاس فوڈ اینڈ ڈرگس ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ موجود ہے جس کے مطابق سافٹ ڈرنک بچوں کے لیے مضر ہے اور اس میں موجود کیمیائی مادے سے بچے موٹے ہو جاتے ہیں۔

ریاستی منسٹر نے کہا کہ انہوں نے صرف ایف ڈی اے کی ہی رپورٹ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے سافٹ ڈرنکس کے بارے میں کئی اور جگہ سے رپورٹیں طلب کی تھی جس پر غور کرنے کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ لیا ہے۔

اس پابندی کا نفاذ سرکاری ہی نہیں نجی اسکولوں پر بھی ہوگا۔

ممبئی کے ایک ڈاکٹر بھوشن پمپلے نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سافٹ ڈرنکس پینے سے انسان موٹا ہوتا ہے کیونکہ ایک بوتل میں دوسوپچاس سے زیادہ کیلوریز ہوتی ہیں اور اس کے علاوہ یہ کاربونیٹیڈ فوڈ ہوتا ہے جو ویسے بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

سافٹ ڈرنک ایک فیشن
 سافٹ ڈرنک پینا اور جنک فوڈ کھانا ایک فیشن بن گیا ہے اور ممبئی جیسے شہر میں یہ لوگوں میں بہت مقبول بھی ہے حالانکہ لوگ اس کے مضر اثرات سے اچھی طرح واقف ہیں۔
ڈاکٹر پردہ والا
شہر میں انجمن اسلام سکول کی پرنسپل نجمہ قاضی کا کہنا ہے کہ انہوں نے تقریبا ایک ماہ سے اپنے سکول میں سافٹ ڈرنکس فروخت کرنا بند کر دیا تھا اور اس کی جگہ ان کی کینٹین میں اب فلیورڈ مِلک اور لسی بیچی جاتی ہے اور بچے اسے شوق سے پیتے ہیں۔ نجمہ کے مطابق آج کل بچے خود اپنی صحت کا دھیان رکھنے لگے ہیں کیونکہ وہ بہت کچھ جانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ درست ہے کیونکہ بچوں کا زیادہ تر وقت تقریبا آٹھ گھنٹے سکول میں بیت جاتے ہیں اور اگر سکول میں انہیں منع کیا جائے گا تو شاید وہ اسے باہر بھی نہیں پیئیں گے۔

تاہم کچھ والدین اس سے متفق نہیں ہیں۔ نفیسہ شیخ کے دو بچے سکول جاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ انہیں سافٹ ڈرنکس پینا منع کرتی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ سکول کے راستے میں اپنا پسندیدہ مشروب پیتے ہیں کیونکہ یہ اب کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔

شہر کے ایک اور ڈاکٹر پردہ والا کا کہنا ہے کہ سافٹ ڈرنک پینا اور جنک فوڈ کھانا ایک فیشن بن گیا ہے اور ممبئی جیسے شہر میں یہ لوگوں میں بہت مقبول بھی ہے حالانکہ لوگ اس کے مضر اثرات سے اچھی طرح واقف ہیں۔

تاہم یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ سکول میں سافٹ ڈرنکس پر پابندی ہونے کے بعد اس بات کی گارنٹی کون دے گا کہ بچے سکول کے باہر اسے نہیں پیئیں گے۔ سافٹ ڈرنکس بھارت کے بڑے شہروں ہی نہیں گاؤں میں بھی بہت مقبول ہے کیونکہ اس کے اشتہار بالی وڈ اور کھیل کی دنیا کے بڑے اسٹار کرتے ہیں۔

ممبئی میں اس کی کھپت زیادہ ہے۔ کروڑوں کا منافع کمانے والی کثیر ملکی کمپنیوں کے لیے حکومت کا یہ فیصلہ ایک چینلج ثابت ہوگا۔ ابھی تک ریاستی حکومت کے اس فیصلہ پر کسی کمپنی کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں
کوک اور پیپسی پر پابندی
08.08.2003 | صفحۂ اول
کوک اور پیپسی ’محفوظ‘ ہیں
21 August, 2003 | صفحۂ اول
کوک کرے دانت خراب
12 March, 2004 | نیٹ سائنس
بھارت میں پیپسی پر حملہ
31.03.2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد