سکولوں میں سافٹ ڈرنک پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کے سکولوں میں اب طلباء سافٹ ڈرنک نہیں پی سکیں گے کیونکہ ریاستی حکومت نے سکولوں کی کینٹین میں اس کی فروخت پر پابندی عائد کردی ہے۔ پابندی کے بارے میں ریاستی وزیر تعلیم وسنت پورکے نے پیر کے روز حکم جاری کردیا ہے۔ وسنت پورکے نے کہا کہ ان کے پاس فوڈ اینڈ ڈرگس ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ موجود ہے جس کے مطابق سافٹ ڈرنک بچوں کے لیے مضر ہے اور اس میں موجود کیمیائی مادے سے بچے موٹے ہو جاتے ہیں۔ ریاستی منسٹر نے کہا کہ انہوں نے صرف ایف ڈی اے کی ہی رپورٹ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے سافٹ ڈرنکس کے بارے میں کئی اور جگہ سے رپورٹیں طلب کی تھی جس پر غور کرنے کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ لیا ہے۔ اس پابندی کا نفاذ سرکاری ہی نہیں نجی اسکولوں پر بھی ہوگا۔ ممبئی کے ایک ڈاکٹر بھوشن پمپلے نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سافٹ ڈرنکس پینے سے انسان موٹا ہوتا ہے کیونکہ ایک بوتل میں دوسوپچاس سے زیادہ کیلوریز ہوتی ہیں اور اس کے علاوہ یہ کاربونیٹیڈ فوڈ ہوتا ہے جو ویسے بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ درست ہے کیونکہ بچوں کا زیادہ تر وقت تقریبا آٹھ گھنٹے سکول میں بیت جاتے ہیں اور اگر سکول میں انہیں منع کیا جائے گا تو شاید وہ اسے باہر بھی نہیں پیئیں گے۔ تاہم کچھ والدین اس سے متفق نہیں ہیں۔ نفیسہ شیخ کے دو بچے سکول جاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ انہیں سافٹ ڈرنکس پینا منع کرتی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ سکول کے راستے میں اپنا پسندیدہ مشروب پیتے ہیں کیونکہ یہ اب کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ شہر کے ایک اور ڈاکٹر پردہ والا کا کہنا ہے کہ سافٹ ڈرنک پینا اور جنک فوڈ کھانا ایک فیشن بن گیا ہے اور ممبئی جیسے شہر میں یہ لوگوں میں بہت مقبول بھی ہے حالانکہ لوگ اس کے مضر اثرات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ تاہم یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ سکول میں سافٹ ڈرنکس پر پابندی ہونے کے بعد اس بات کی گارنٹی کون دے گا کہ بچے سکول کے باہر اسے نہیں پیئیں گے۔ سافٹ ڈرنکس بھارت کے بڑے شہروں ہی نہیں گاؤں میں بھی بہت مقبول ہے کیونکہ اس کے اشتہار بالی وڈ اور کھیل کی دنیا کے بڑے اسٹار کرتے ہیں۔ ممبئی میں اس کی کھپت زیادہ ہے۔ کروڑوں کا منافع کمانے والی کثیر ملکی کمپنیوں کے لیے حکومت کا یہ فیصلہ ایک چینلج ثابت ہوگا۔ ابھی تک ریاستی حکومت کے اس فیصلہ پر کسی کمپنی کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ | اسی بارے میں کوکا کولا اور پیپسی کی تردید06.08.2003 | صفحۂ اول کوک اور پیپسی پر پابندی08.08.2003 | صفحۂ اول کوک اور پیپسی ’محفوظ‘ ہیں21 August, 2003 | صفحۂ اول کوک کرے دانت خراب12 March, 2004 | نیٹ سائنس بھارت میں پیپسی پر حملہ31.03.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||