کوک کرے دانت خراب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحقیق کے مطابق نوجوانوں میں دانتوں کی خرابی اور دانت جھڑنےکی اہم وجہ مختلف تیز جھاگ والی مشروبات یا کوک کا استعمال ہے۔ برٹش ڈینٹل جرنل کی ایک تحقیق کے مطابق دانتوں کے کیڑا لگنے کی بڑی وجہ کوک جیسی مشروبات ہیں۔ اس طرح دانت گرنے کا خطرہ بارہ برس کے بچوں میں انسٹھ فیصد ہے اور چودہ برس کے بچوں میں یہی خطرہ دو سو بیس فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسے نوجوان جو کوک یا تیز جھاگ والی مشروبات کے چار گلاس روزانہ کے حساب سے پی رہے ہیں ان میں دانتوں کے خراب ہونے یا جھڑنے کا خطرہ دو سو باون فیصد تک بڑھ سکتا ہے اور یہی خطرہ چودہ برس کے بچوں پانچ سو تیرہ فیصد تک ہو سکتا ہے۔ ایک ہزار بچوں پر کیے گئے سروے کے مطابق بارہ برس کے بچوں کی ایک تہائی تعداد تیزجھاگ والی مشروبات یا کوک پینے پر آمادہ نظر آتی ہے جبکہ چودہ برس کے بچوں میں یہی رجحان بانوے فیصد سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ اور دونوں عمروں کے بچوں میں سے چالیس فیصد تقریباً روزانہ تین یا تین سے زائد گلاس کوک پینے کی عادت پر مجبور ہیں۔ برٹش ڈینٹل ایسوسی ایشن کی پروفیسر لز کے کا کہنا ہے کہ دانتوں کا جھڑنا برطانوی بچوں میں ایک بڑا مرض بنتا جا رہا ہے۔ لیکن کئی والدین اس حقیقت سے آگاہ ہی نہیں کہ دانتوں کو کیڑا لگنے اور جھڑنے میں کیا فرق ہوتا ہے۔ اس صورتحال پر برٹش سافٹ ڈرنکس ایسوسی ایشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کوک کی صنعت سے وابستہ لوگوں کو اندازہ ہے کے کوک یا اسی طرح کی تیز جھاگ والی مشروبات دانتوں کے جھڑنے کا بڑا سبب بن رہی ہیں۔ برطانوی سافٹ ڈرنکس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ جو لوگ کوک یا اس جیسی دوسری مشروبات پیتے ہیں انہیں چاہیے کے وہ دن میں دو بار فلورائیڈ والے ٹٹتھ پیسٹ سے دانت صاف کیا کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہنا ہے کہ دودھ پینے والے بچوں کو بوتلوں میں کوک یا پھلوں کا شربت دینے سے بھی پرہیز کیا جانا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||