کوک پیپسی کا استعمال بطور جراثیم کش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سافٹ ڈرنکس میں جراثیم کش مادے کی مقدار ماحولیاتی تنظیموں کے لیئے بھلے ہی تشویش کی بات ہو، ریاست بہار کے شمالی ضلع مظفرپور کے کاشت کار اس کا استعمال کھیتوں میں کر رہے ہیں۔ ایسے کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ سافٹ ڈرنکس کے سپرے کیڑوں کو مارنے کے لیئے نہایت موثر ثابت ہورہے ہیں۔ایک ایسے ہی کسان نتھونی کا کہنا ہے کہ بازار میں ملنے والے کیمیاوی پیسٹی سائڈ کے ایک لیٹر کے لیئے اسی سے ڈیڑھ سو روپے لگتے ہیں جبکہ مشہور کمپنیوں کے سافٹ ڈرنکس کی ایک لیٹر کی بوتل تیس روپے میں مل جاتی ہے۔ ایک اور کسان دلیپ کمار نے بتایاکہ ایکسپائرڈ سافٹ ڈرنکس کی بوتل کی قیمت اور کم ہوتی ہے اور اس کا اثر بھی اچھا ہوتا ہے۔ دلیپ کےمطابق سافٹ ڈرنکس کا اثر چند گھنٹوں میں ہی سامنے آنے لگتا ہے جبکہ روایتی جراثیم کش مادے کا اثر کافی دیر میں نظر آتا ہے۔ علاقے کے کسان سافٹ ڈرنکس کا استعمال مکئی، دھان اور سبزیوں کی فصلوں میں کر رہے ہیں۔ علاقے کے کھیتوں میں سافٹ ڈرنکس کا بطور جراثیم کش استمعال مقبول ہو رہا ہے۔ بہار میں پیپسی کی فرینچائزڈ کمپنی ’لمبنی بیوریجز لمٹیڈ‘ کے ڈائریکٹر روی کھلانی نے اس بارے میں بیان دینے سے گریز کیا اور کہا کہ پورے معاملے کو ہیڈ آفس دیکھ رہا ہے۔
اسی کمپنی کے ایک دوسرے اہلکار نے بتایا کہ انہیں کھیتوں میں سافٹ ڈرنکس کے استعمال کا علم نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو تین سال پہلے آندھرا پردیش سے یہ خبر آئی تھی کہ وہاں کے کاشت کار سافٹ ڈرنکس کا استعمال کھیتوں میں لگنے والے مکڑی کے جال کو ہٹانے کے لیئے کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ سافٹ ڈرنکس میں موجود چینی سے چیونٹیاں آتی ہیں جو ان جالوں کو توڑ دیتی ہیں۔ کسان لیڈر بھولاناتھ جھا کہتے ہیں کہ سافٹ ڈرنکس کے استعمال کا اثر تو ہوتا ہے مگر بعض کیڑے ایسے ہوتے ہیں جس کے لیئے روایتی جراثیم کش مادوں کا سپرے ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’سافٹ ڈرنکس کی کیا شکایت کی جائے، یہاں تو سرکاری نلوں سے فراہم کیئے جانے والے پانی میں ہی مضر صحت اجزاء پائے جاتے ہیں‘۔ دو سال قبل ریاست چھتیس گڑھ سے بھی اسی قسم کی خبر آئی تھی کہ وہاں کےکسان کوک اور پیپسی کا استعمال کیڑے مار دوا کے طور پر کر رہے ہیں۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کولڈ ڈرنکس کا ایسا استعمال ممکن ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ مؤثر بھی ہو۔ | اسی بارے میں گیا میں پھولوں سے روزگار21 March, 2005 | انڈیا بھارتی لیچی کی کہانی19 May, 2005 | انڈیا بہار:سیلاب، خشک سالی ایک ساتھ29 August, 2005 | انڈیا یورینیم کی کان، کچرا میدان میں12 May, 2006 | انڈیا ’بودھی‘ درخت کاٹے جانے پر تنازعہ22 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||