یورینیم کی کان، کچرا میدان میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا اوراؤں کی عمر سترہ سال ہے لیکن لمبائی صرف دو سے تین فٹ۔ پیر عجیب طریقے سے مڑے ہوئے ہیں۔ وہ نہ کچھ بول سکتا ہے اور نہ سمجھ پاتا ہے۔ بس ہنستا ہے۔ دنیا کی دنیا سمجھنا مشکل ہے۔ ایسی بیماریاں انڈیا کے جارکھنڈ صوبے کے جادوگوڑا میں عام ہیں۔ کچھ بچے ایسے بھی ہیں جنکی پانچ انگلیاں ہیں۔ سر بہت بڑے ہیں۔ کچھ بچوں کا آدھا بدن ہی بنا ہے۔ اگر ایک ساتھ ان بچوں کو دیکھ لیں تو خوف طاری ہو جاتا ہے۔ یہ سب بچے جادو گوڑا میں پھینکے جا رہے ریڈیوایکٹو کچرے کے پاس بسے گاؤں میں رہتے ہیں۔ جی ہاں انڈیا کی اکیلی ایسی یورینیم کی کان جادوگوڑا میں ہے اور اس سے ہر روز نکلنے والا سینکڑوں ٹن کچرا آبادی کے پاس ہی کھلے میں پھینکا جاتا ہے۔ کان چلانے والی سرکاری کی کمپنی یورینیم کارپوریشن آف انڈیا لمیٹیڈ کا کہنا ہے کہ یہ بیماریاں یورینیم یا ریڈیوایکٹو کچرے کی وجہ سے بالکل نہیں ہیں۔
برولی اس سروے کا حوالہ دیتے ہیں جو جوہری سائنسدان سنگھ متراگڈیکر اور سریندر گڈیکر نے کیا ہے۔ گڈیکر اور انکی بیوی نے کچھ برس پہلے جادوگوڑا اور اسکے آس پاس کے علاقے میں یہ سروے کیا تھا۔ سنگھ مترا گڈیکر کا کہنا ہے کہ ’جادوگوڑا کے بچوں میں موروثی بیماریاں کافی پائی گئیں ۔ ایسی بیماریاں ایسے علاقوں میں ہی ملتی ہیں جہاں ریڈیوایکٹو کی پریشانی ہے‘۔
جادو گوڑا میں بچوں کی بیماری کو ریڈیوایکٹو سے جوڑنا آسان تو نہیں ہے لیکن آبادی کے بالکل سامنے کچرا پھینکا جانا کہیں سے بھی صحیح نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ اتنا ہی نہیں خام مادہ صفائی کے لیئے بالکل کھلے میں لے جایا جاتا ہے اور جو ڈرائیور ان ٹرکوں کو چلاتے ہیں انکے پاس ریڈیائی لہروں سے بچنے کے لیئے کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ اس کے قریب ہی قائم ایک کارخانے کا گندا پانی سیدھے ندی میں جاتا ہے جہاں کا پانی لوگ پینے کے لیئے استمعال کرتے ہیں۔ 1997 میں بہار ریاستی اسمبلی کی ایک ٹیم نے بھی جادو گوڑا کا سروے کیا تھا اور کہا تھا کہ کمپنی کو لوگوں کی حفاظت کے سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے وقت دینےکے بعد بھی بات نہیں کی اور مجھے انٹرویو نہیں ملا۔ جادوگوڑا کا پہلے نام جاراگوڑا ہوا کرتا تھا۔ یورینیم کی کان کھلتے ہی یہاں شاید ’جادوئی تبدیلیاں‘ آنے لگیں اور نام ہو گیا جادوگوڑا۔ دنیا بدل گئی ہے لیکن اس دنیا میں پیدا ہوئے دنیا اوراؤں کی دنیا بالکل نہیں بدلی ہے۔ | اسی بارے میں جوہری فضلہ، سماعت ملتوی29 March, 2006 | پاکستان ایٹمی فضلہ ’ڈمپ‘ کرنے پر تشویش26 April, 2006 | پاکستان تاریکی میں ڈوبا ’ایٹمی‘ علاقہ27 April, 2006 | پاکستان جوہری فضلہ: آزاد انکوائری کا مطالبہ28 April, 2006 | پاکستان ایٹمی فضلہ تلف کرنا ایک درد سر29 April, 2006 | پاکستان ’پاکستان: مزدور بچوں کی تعداد کم‘04 May, 2006 | پاکستان ’ایٹمی فضلہ غیر محفوظ نہیں‘04 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||