BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 May, 2006, 14:46 GMT 19:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یورینیم کی کان، کچرا میدان میں

معذور بچی
’یورینیم کی کان سے پہلے یہاں سب کچھ ٹھیک تھا۔ اب ایسے معذور بچے پیدا ہو رہے ہیں‘
دنیا اوراؤں کی عمر سترہ سال ہے لیکن لمبائی صرف دو سے تین فٹ۔ پیر عجیب طریقے سے مڑے ہوئے ہیں۔ وہ نہ کچھ بول سکتا ہے اور نہ سمجھ پاتا ہے۔ بس ہنستا ہے۔ دنیا کی دنیا سمجھنا مشکل ہے۔

ایسی بیماریاں انڈیا کے جارکھنڈ صوبے کے جادوگوڑا میں عام ہیں۔ کچھ بچے ایسے بھی ہیں جنکی پانچ انگلیاں ہیں۔ سر بہت بڑے ہیں۔ کچھ بچوں کا آدھا بدن ہی بنا ہے۔

اگر ایک ساتھ ان بچوں کو دیکھ لیں تو خوف طاری ہو جاتا ہے۔ یہ سب بچے جادو گوڑا میں پھینکے جا رہے ریڈیوایکٹو کچرے کے پاس بسے گاؤں میں رہتے ہیں۔

جی ہاں انڈیا کی اکیلی ایسی یورینیم کی کان جادوگوڑا میں ہے اور اس سے ہر روز نکلنے والا سینکڑوں ٹن کچرا آبادی کے پاس ہی کھلے میں پھینکا جاتا ہے۔

کان چلانے والی سرکاری کی کمپنی یورینیم کارپوریشن آف انڈیا لمیٹیڈ کا کہنا ہے کہ یہ بیماریاں یورینیم یا ریڈیوایکٹو کچرے کی وجہ سے بالکل نہیں ہیں۔

یورینیم اور بیماریاں
 جادوگوڑا کے بچوں میں موروثی بیماریاں کافی پائی گئیں ۔ ایسی بیماریاں ایسے علاقوں میں ہی ملتی ہیں جہاں ریڈیوایکٹو کی پریشانی ہے
سنگھ مترا گڈیکر
ریڈیوایکٹو کچرے کے خلاف کام کر رہے ادارے ’جوہار‘ کے گھن شیام برولی کچھ اور کہتے ہیں ’یورینیم کی کان سے پہلے یہاں سب کچھ ٹھیک تھا۔ اب ایسے معذور بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ کینسر اور سانس کی بیماریاں عام ہیں‘۔

برولی اس سروے کا حوالہ دیتے ہیں جو جوہری سائنسدان سنگھ متراگڈیکر اور سریندر گڈیکر نے کیا ہے۔ گڈیکر اور انکی بیوی نے کچھ برس پہلے جادوگوڑا اور اسکے آس پاس کے علاقے میں یہ سروے کیا تھا۔

سنگھ مترا گڈیکر کا کہنا ہے کہ ’جادوگوڑا کے بچوں میں موروثی بیماریاں کافی پائی گئیں ۔ ایسی بیماریاں ایسے علاقوں میں ہی ملتی ہیں جہاں ریڈیوایکٹو کی پریشانی ہے‘۔

یورینیم وجہ نہیں
 یہ بیماریاں یورینیم یا ریڈیوایکٹو کچرے کی وجہ سے بالکل نہیں ہیں
یورینیم کارپوریشن آف انڈیا لمیٹیڈ

جادو گوڑا میں بچوں کی بیماری کو ریڈیوایکٹو سے جوڑنا آسان تو نہیں ہے لیکن آبادی کے بالکل سامنے کچرا پھینکا جانا کہیں سے بھی صحیح نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

اتنا ہی نہیں خام مادہ صفائی کے لیئے بالکل کھلے میں لے جایا جاتا ہے اور جو ڈرائیور ان ٹرکوں کو چلاتے ہیں انکے پاس ریڈیائی لہروں سے بچنے کے لیئے کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

اس کے قریب ہی قائم ایک کارخانے کا گندا پانی سیدھے ندی میں جاتا ہے جہاں کا پانی لوگ پینے کے لیئے استمعال کرتے ہیں۔

1997 میں بہار ریاستی اسمبلی کی ایک ٹیم نے بھی جادو گوڑا کا سروے کیا تھا اور کہا تھا کہ کمپنی کو لوگوں کی حفاظت کے سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔
میں نے جب انہیں سوالوں کے جواب جاننے کے لیئے یو سی آئی ایل کے افسران سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تو وہ بات کرنے کے لیئے تیار نہیں ہوئے۔

انہوں نے وقت دینےکے بعد بھی بات نہیں کی اور مجھے انٹرویو نہیں ملا۔

جادوگوڑا کا پہلے نام جاراگوڑا ہوا کرتا تھا۔ یورینیم کی کان کھلتے ہی یہاں شاید ’جادوئی تبدیلیاں‘ آنے لگیں اور نام ہو گیا جادوگوڑا۔ دنیا بدل گئی ہے لیکن اس دنیا میں پیدا ہوئے دنیا اوراؤں کی دنیا بالکل نہیں بدلی ہے۔

اسی بارے میں
جوہری فضلہ، سماعت ملتوی
29 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد