’ایٹمی فضلہ غیر محفوظ نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جوہری توانائی کے ادارے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن یعنی پی اے ای سی نے اپنے ایک وضاحتی بیان میں ان خبروں کی تردید کی ہے کہ وہ ایٹمی فضلے کو غیر محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگا رہا ہے۔ ا پی اے ای سی کے شعبہ سائنسی معلومات وتعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ وضاحت نامے میں کہا گیا ہے کہ ’(پاکستان میں) ایٹمی فضلے کو ٹھکانے لگانے کا عمل تمام بین الاقوامی قوانین و ضابطوں کے تحت انجام دیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں کوئی خدشات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں‘۔ ’عوام الناس اور خود اپنے ملازمین کا تحفظ اٹامک انرجی کمیشن کے لیئے انتہائی مقدم ہے اور اس علاقے (بغلچور) میں مسلسل سائنسی آلات کے ساتھ نگرانی کی جاتی ہے۔ لیکن پانی، سبزے اور ہوا میں کہیں بھی تابکاری کے اثرات نہیں پائے گئے۔ لہذا اس علاقے میں بڑے بڑے پاؤں والی گائے کی پیدائش تابکاری کا نتیجہ نہیں ہے۔ کیونکہ ایسی گائیں ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی بعض نامعلوم وجوہات کے باعث پائی جاتی ہیں۔ ’دنیا بھر میں یہ ایک مسلمہ طریقہ کار ہے کہ ایٹمی فضلے کو پرانی کانوں اور غاروں میں ٹھکانے لگایا جاتا ہے اور اس طریقہ کار کے تحت انسان اور ان کا ماحول کسی قسم کے اثرات سے متاثر نہیں ہوتے۔ اٹامک انرجی کمیشن کے سینکڑوں ملازمین بغلچور کے علاقے میں گزشتہ تیس برس سے یورینیم کی کان کنی کرتے آرہے ہیں اور وہاں قائم کردہ کالونی میں رہائش پذیر رہے ہیں۔ اب تک ان ملازمین میں یا ان کے خاندان کے کسی فرد میں تابکاری کے کسی قسم کے اثرات نہیں پائے گئے۔‘ تاہم اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی سے ریٹائرڈ ہونے والے نیوکلئیر فزکس کے پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ نیئر کا کہنا ہے کہ پی اے ای سی کی وضاحت اپنی جگہ لیکن دنیا بھر میں کہیں بھی نیو کلئیر آپریٹرز یعنی جوہری توانائی کے اداروں کے دعوؤں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور اسے لیئے جوہری توانائی پر کام کرنے والے ممالک میں آزادنہ طور پر کام کرنے والی ایسی نیوکلئیر اتھارٹیز بنائی جاتی ہیں جو جوہری توانائی کے اداروں کے کام پر نظر رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پی این آر اے (پاکستان نیو کلئیر ریگولیٹری اتھارٹی) کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس چیز کا جائزہ لے کہ آیا ایٹمی فضلے کو ڈمپ کرتے ہوئے پی اے ای سی واقعی تمام حفاظتی تدابیر کو ملحوظ خاطر رکھ رہا ہے۔ ’لیکن پی این آر اے ابھی تک اپنے آپ کو پی اے ای سی سے علیٰحدہ ایک آزاد اور خود مختار ادارے کے طور پر منوا نہیں سکی۔‘ سال دو ہزار ایک میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ایک ’خود مختار‘ ادارے کے طور پر وجود میں آنے سے پہلے پی این آر اے مختلف اوقات میں مختلف ناموں کے تحت سال انیس سو اکہتر سے پی اے ای سی کے ایک ذیلی ادارے کے طور پر کام کرتا رہا۔ تاہم پاکستان نے انیس سو چورانوے میں سامنے آنے والے ’انٹرنیشنل کنونشن آن نیوکلئیر سیفٹی‘ پر دستخط کئیے جس کے تحت جوہری معاملات پر نظر رکھنے کے لیئے ملک کے اندر ایک آزاد اور خود مختار ادارے کا قیام لازم ہوگیا۔ پروفیسر نیئر کا کہنا تھا کہ پی این آر اے کے اب تک کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے یہ زیادہ بہتر ہوگا کہ اگر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن جوہری معاملات کا علم رکھنے والے غیر جانبدار ماہرین کو بھی بغلچور کے علاقے کا دورہ کرنے کی دعوت دے تاکہ آزاد ذرائع سے بھی اس کے دعوؤں کی تصدیق ہوسکے۔ انہوں نے بتایا کہ پی اے ای سی کی طرف سے چشمہ کے مقام پر لگایا جانے والا نیوکلئیر پاور پلانٹ جب تکمیل کے مراحل میں تھا تو ان سمیت بعض سائنسدانوں، نے جو اٹامک انرجی کمیشن کے ملازم نہیں تھے، اس پراجیکٹ پر اپنے کچھ تحفظات کا اظہار کیا تھا۔اس پر سال دوہزار میں اس وقت کے وفاقی وزیر ماحولیات مرحوم عمر اصغر خان نے ’ری ایکٹر سیفٹی اینلسسز رپورٹ‘ کے حوالے سے ایک بریفنگ کا اہتمام کرایا تھا۔ اس بریفنگ میں اس وقت پی اے ای سی کے سربراہ ڈاکٹر اشفاق احمد خان سمیت اٹامک انرجی کمیشن کے تمام بڑے بڑے اہلکار موجود تھے۔ ڈاکٹر نیئر کے مطابق انہوں نے اس بریفنگ کے دوران ڈیرہ غازی خان اور اس علاقے بغلچور میں مبینہ تابکاری اثرات کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش کے بارے میں بات کرتے ہوئے ادھر جانے کا عندیہ دیا تو اٹامک انرجی کمیشن کے سربراہ نے فوراً جواب دیا کہ ’یورینیم سے متعلقہ ہر معاملہ دفاعی اہمیت کا حامل ہے اور کسی کو اس (جگہ) کے نزدیک جانے کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔ یاد رہے کہ بغلچور کے رہائشی کچھ افراد نے پچھلے سال اکتوبر کے مہینے میں ڈیرہ غازی خان کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ اٹامک انرجی کمیشن کو ان کے علاقے میں جوہری فضلہ ڈمپ کرنے سے منع کیا جائے کیونکہ بقول ان کے اس سے انسانی، حیوانی و نباتاتی زندگیوں کو تابکاری سے متاثر ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ درخواست گزاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ تابکاری کے اثرات ان کے جانوروں پر ظاہر ہونا بھی شروع ہوگئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ابتدائی سماعت کے بعد معاملے کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مقدمہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ آف پاکستان کو بھجوا دیا جہاں یہ معاملہ ابھی زیر سماعت ہے۔ | اسی بارے میں ایٹمی فضلہ ’ڈمپ‘ کرنے پر تشویش26 April, 2006 | پاکستان تاریکی میں ڈوبا ’ایٹمی‘ علاقہ27 April, 2006 | پاکستان جوہری فضلہ: آزاد انکوائری کا مطالبہ28 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||