BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 May, 2006, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان: مزدور بچوں کی تعداد کم‘

تنظیم کے مطابق فٹبال بنانے کی صنعت میں بچوں سے مزدوری لینے کا کام سو فیصد ختم ہو چکا ہے
مزدوروں کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ پاکستان میں مزدور بچوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔

تنظیم کے مطابق فٹبال بنانے کی صنعت میں بچوں سے مزدوری لینے کا کام سو فیصد ختم ہو چکا ہے، جبکہ قالین بنانے کی صنعت میں بھی اس سلسلے میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ تاہم تنظیم کے مطابق ابھی بھی پاکستان میں ہزاروں بچے چوڑیاں بنانے، سرجیکل آلات کی صنعت، کوئلے کی کانوں، گہرے سمندر میں مچھلیاں پکڑنے کے کاروباراور چمڑے کے کارخانوں میں کام کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ملک کے تمام صوبائی دارالحکومتوں اور وفاقی دارالحکومت میں بھی ایک لاکھ دس ہزار بچے کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے اور ہسپتالوں کا فضلہ جمع کرنے کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔

اسلام آباد میں بچوں سے مزدوری کے بارے میں عالمی رپورٹ کے اجرا کے موقع پر آئی ایل او کے عہدیداران کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں بچوں سے مزدوری لینے کے کام میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور امید ہے کہ یہ غیر قانونی کام دو ہزار پندرہ تک دنیا کے تمام ممالک میں ختم ہو جائے گا۔

آئی ایل او کے عہدیداران نے اس وقت پاکستان میں مزدوری کرنے والے بچوں کی تعداد تو نہیں بتائی تاہم کہا کہ اس وقت بھی ہزاروں بچے جن کی عمریں پانچ اور چودہ سال کے درمیان ہیں مزدوری کر رہے ہیں۔

آئی ایل او کے ایک عہدیدار سیف اللہ چوہدری کے مطابق پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں تقریبًا دس ہزار بچے اس صنعت سے وابستہ ہیں جس میں بچے اور بچیاں دونوں شامل ہیں جبکہ گہرے سمندر میں مچھلیاں پکڑنے کے کاروبار میں صرف بلوچستان کے ساحلوں پر پانچ ہزار سے زائد بچوں سے مزدوری لی جاتی ہے۔اس کے علاوہ سیالکوٹ میں سرجیکل آلات کی صنعت میں تقریبًا پانچ ہزار بچوں سے مزدوری لی جاتی ہے اور پنجاب ہی کے شہر قصورمیں چمڑہ بنانے کے چھوٹے کارخانوں میں بھی پانچ ہزار بچوں سے مزدوری لی جاتی ہے۔

آئی ایل او کے عہدیداران کے مطابق صوبہ سرحد کے شہر شانگلہ اور صوبہ پنجاب کے شہر چکوال میں کوئلے کی کانوں میں ایک ہزار سے زائد نا بالغ بچے مزدوری کر رہے ہیں جو کہ نہایت ہی تشویش ناک بات ہے۔

جبکہ تنظیم کے سروے کے مطابق پاکستان کے چار بڑے شہروں کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور اور اسلام آباد میں ایک لاکھ دس ہزار بچے کوڑا کرکٹ اور ہسپتالوں کا فضلہ اکٹھا کرنے کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔

آئی ایل او کے مطابق پاکستان خطے میں سری لنکا کے بعد دوسرا ملک ہے جس نے آئی ایل او کے کنونشن ایک سو اڑتیس پر دستخط کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ اس کنونشن کے مطابق پاکستان بچوں سے مزدوری کی کم سے کم عمر چودہ برس کا احترام کرے گا اور کان کنی جیسے کاروبار میں بچوں سے مزدوری نہ لینے کو یقینی بنائے گا۔

ناکام ریاستوں کی نئی اِنڈیکسناکام ریاستیں
نئی فہرست میں پاکستان نویں نمبر پر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد