کان کنوں کے لیے مراعات کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تقریبًا تیس برسوں کی تاخیر کے بعد صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں بھی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو صنعتی کارکنوں کے برابر مراعات دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس بات کا اعلان صوبائی وزیر صنعت اور قانون ملک ظفر اعظم نے بدھ کو پشاور میں ایک اخباری کانفرنس کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد اب صوبے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو بھی صنعتی کارکنوں والی سہولتیں حاصل ہوں گی۔ ملک کے دیگر تین صوبوں کی کانوں میں مزدوری کرنے والوں کو پہلے ہی یہ سہولت حاصل ہے۔ صوبہ سرحد واحد صوبہ تھا جہاں یہ ’ناانصافی’ گزشتہ تیس برسوں سے جاری تھی۔ سرحد حکومت کے اس فیصلے کے بعد توقع ہے کہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو ڈیتھ، میریج، بچوں کے سکول اور مکان کے لیے گرانٹ جیسی سہولتیں مہیا ہوں گی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر صنعت نے یہ اعلان بھی کیا کہ سن انیسو ننانوے سے لے کر آج تک کانوں میں حادثات میں ہلاک ہونے والے ایک سو انیس مزدوروں کو آئندہ چند ہفتوں میں ڈیڑھ لاکھ روپے کی گرانٹ فوری طور پر جاری کر دی جائے گی۔ ان میں آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں ہلاک ہونے والے اٹھارہ کان کن بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ دور دراز کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو چند ماہ میں کان کے قریب پری فیبریکیٹڈ کمرے بھی تعمیر کر کے دیے جائیں گے تاکہ وہ خیموں اور کھلے آسمان کی بجائے اس میں آرام کر سکیں۔ ابتدائی طور پر یہ کمرے چراٹ میں جبہ تر اور جبہ خشک کے علاقوں میں مہیا کیے جائیں گے۔ تاہم صوبائی حکومت کا کہنا تھا کہ اس کے پاس اس وقت صوبے کی کانوں میں کام کرنے والوں کی اصل تعداد کے بارے میں اعداوشمار موجود نہیں ہیں البتہ ایک اندازے کے مطابق یہ ایک لاکھ تک ہوسکتی ہے۔ صنعتی مزدور کے برابر کا درجہ ملنے کے بعد ان کا اندراج بھی ممکن ہوسکے گا۔ فی الحال حکومت کے پاس نو ہزار ایسے مزدور رجسٹرڈ ہیں۔ دیگر صوبوں سے یہاں کے مزدوروں کو اس سہولت دیے جانے میں تاخیر کی وجہ حکام کے مطابق طریقہ کار یا نظام کا موجود نہ ہونا تھی۔ تاہم اب یہ نظام وضع کر دیا گیا ہے۔ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں سب سے بڑی کانیں سنگ مرمر اور چپسم کی ہیں جن کے بعد کوئلہ، کرومائٹ اور نمک قابل ذکر ہیں تاہم صوبائی حکام کے مطابق اس خطے میں کانوں میں حادثاتی اموات کا تناسب دیگر صوبوں سے کم ہے۔ | اسی بارے میں خیمے میں آگ، 7 افراد ہلاک07 December, 2005 | پاکستان امدادی کارکنوں کا ریلہ چل پڑا تھا15 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||