BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 March, 2006, 01:13 GMT 06:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قبر بن جائے تو روٹی چلتی ہے‘

کتبے لکھنے والا
قبروں پر کتبے لکھنے والوں کو ایک پتھر لکھنے کا تین سو روپے معاوضہ ملتا ہے
کہتے ہیں کہ زندگی موت کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ اس بات کو گورکنوں سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے جن کے ہاتھوں زندگی کا جسمانی روپ منوں مٹی تلے دب جاتا ہے۔

لیکن خود ان گورکنوں کی زندگی کیسی ہوتی ہے، کیسے گزرتی ہے، یہی جاننے کے لیے میں کراچی میں ائیرپورٹ کے نزدیک ماڈل کالونی کے قبرستان جا نکلا جہاں میری ملاقات دو گورکنوں محمد سلیم اور محمد رمضان سے ہوئی۔

محمد سلیم کا کہنا تھا کہ کسی نہ کسی طرح تو روٹی کمانی ہی تھی، اور چونکہ انہیں کوئی اور ہنر آتا نہیں تھا لہٰذا جب ایک جاننے والے نے ان کی توجہ اس پیشے کی جانب دلائی تو وہ گورکن بن گئے اور اب دس برس سے یہی کام کررہے ہیں۔

محمد سلیم نے شکوہ کیا کہ لوگ گورکن کو ایسا ڈاکو سمجھتے ہیں جو قبرستان میں دفن کیے گئے مردوں کی ہڈیاں چند پیسوں کی خاطر بیچ دیتا ہے۔

جب مدفون افراد کے عزیزواقارب ان کی قبروں پر آتے ہیں تو اکثر وہ دوچار پھول اپنی عقیدت اور محبت ظاہر کرنے کو خرید لیتے ہیں لیکن ان کے اس عمل سے قبرستان کے ساتھ بیٹھے گلفروشوں کے گھر کے چولہے جلتے رہتے ہیں۔

محمد رمضان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی اس طرح کی باتیں محض افواہوں کے مترادف اور سنی سنائی پر یقین کرنا ہے ورنہ کوئی مسلمان ایسا کرنا کا سوچ بھی کیسے سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گورکنوں کا اور تو زندگی گزارنے کا کوئی آسرا ہوتا نہیں ہے، ان کو اگر دن میں ایک آدھ قبر تیار کرنے کے سو ڈیڑھ سو روپے مل جاتے ہیں تو ان کے گھروالوں کی روٹی کا انتظام ہوجاتا ہے ورنہ فاقہ ہوتا ہے۔

سلیم نے بتایا کہ ایک قبر کی تیاری کا نرخ پندرہ سو روپے ہے جس میں سے ایک ہزار روپے سرکاری فیس جبکہ صرف پانچ سو روپے گورکنوں کی مزدوری ہوتی ہے جو پانچ گورکنوں میں تقسیم ہوتی ہے۔

ان کہنا تھا کہ قبر کی تیاری کی تعداد صرف قدرت کے ہاتھ میں ہے جس نے گورکنوں کی روزی ہی اسی طرح رکھی ہے ورنہ ایسا نہیں ہے کہ گورکن لوگوں کی موت کی دعائیں مانگتے ہیں۔

گورکنوں کے مطابق جب بھی کوئی شحض کسی قبر کی تیاری کا آرڈر دیتا ہے، اس کا اندراج ایک رجسٹر میں کیا جاتا ہے جس میں اہم ترین کالم موت کی اطلاع دینے والے کے کوائف کے بارے میں ہوتا ہے۔

پھول خوشی اور غم دونوں موقعوں پر خریدے جاتے ہیں

اگر یہ کالم مکمل نہ ہوتو کام شروع نہیں کیا جاتا کیونکہ حالات ایسے ہیں کہ گورکنوں کو خود کو قانونی لحاظ سے محفوظ رکھنے کا انتظام کرنا ہوتا ہے۔ یہ انتظام نومولود بچوں کے معاملے میں زیادہ سختی سے کیا جاتا ہے۔

ہر قبرستان کے ساتھ ہی گلفروشوں کی دکانیں بھی لازماً ملتی ہیں۔ رئیس احمد بھی ماڈل کالونی کے اس قبرستان کے ساتھ ایسی ہی دکان چلارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ویسے تو پھول زندگی کی علامت کے طور پر لیئے جاتے ہیں لیکن پھولوں کا استعمال تو شادی بیاہ، زندگی موت اور صحت بیماری وغیرہ ہر ہی موقع پر ہوتا ہے۔

رئیس احمد کا کہنا تھا کہ جب مدفون افراد کے عزیزواقارب ان کی قبروں پر آتے ہیں تو اکثر وہ دوچار پھول اپنی عقیدت اور محبت ظاہر کرنے کو خرید لیتے ہیں لیکن ان کے اس عمل سے قبرستان کے ساتھ بیٹھے گلفروشوں کے گھر کے چولہے جلتے رہتے ہیں۔

قبرستان کے ساتھ ہی مجھے قبروں کے کتبے بنانے والا ایک کاریگر محمد فہد ملا جو گزشتہ سات برس سے یہی کام کررہا ہے۔

فہد نے بتایا کہ اس کا استاد خود اس کا بڑا بھائی تھا جس نے پہلے پتھروں کی رگڑائی اور اوزار وغیرہ پکڑنا سکھائے اور پھر آہستہ آہستہ کٹائی سکھائی۔

فہد کے مطابق ایک عام کتبہ پتھر سمیت ساڑھے تین سو میں بن جاتا ہے جبکہ اوپری قیمت کی کوئی حد نہیں اور کام کے مطابق قیمت بڑھتی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ابھرے ہوئے کام کی قیمت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ فہد کے مطابق کاتب اور خطاط پہلے سیاہی سے کتبوں کی عبارت تحریر کرتے ہیں اور اس کے بعد سنگتراش پتھر کی کٹائی کرکے کتبہ تیار کردیتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد