BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 May, 2006, 07:10 GMT 12:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’طاقت ختم ہوگئی، مجبوری کام کرا رہی ہے‘

 قلی
کراچی کے کینٹ سٹیشن پر ساڑھے چار سو قلی کام کرتے ہیں
صاحب قلی چاہیئے، صاحب یہ سامان میں اٹھالوں صرف بیس روپے لوں گا۔ کسی بھی بڑے ریلوے سٹیشن پر یہ آوازیں سننے کو مل جاتی ہیں۔ سیٹی بجاتی ہوئی ٹرین جیسے ہی سٹیشن پر رکتی ہے تو سرخ قمیضوں میں ملبوس قلیوں کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔

کئی حکومتیں آئیں اورگئیں مگر ان قلیوں کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
ریلوے کے کرائے سے لے کر ملازمین کی تنخواہوں اور سٹالوں کے ٹھیکوں تک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، مگر ابھی تک روٹی روزی کے پیچھےقلیوں کی دوڑ جاری ہے۔

کراچی کے کینٹ ریلوے سٹیشن پر صبح چار بجے سے مسافروں کی آمد کے ساتھ قلیوں کا کام شروع ہوجاتا ہے جو رات کے دس گیارہ بجے تک جاری رہتا ہے۔چوبیس گھنٹوں میں چالیس ریل گاڑیاں آتی جاتی ہیں اور ساڑھے چار سو قلی ان کے پیچھے روزی کی تلاش میں بھاگتے رہتے ہیں۔

غلام نبی گزشتہ پینتالیس سالوں سے کینٹ سٹیشن پر قلی کا کام کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ دن بدن قلی کی حالت بدترین ہوتی جا رہی ہے۔گزرے ہوئے زمانے کو یاد کرتے ہوئے غلام نبی بتاتے ہیں کہ اس وقت پیسہ کم تھا لیکن چیزیں سستی تھیں، آٹھ آنے کا فی پھیرا ہوتا تھا اور روزانہ ہمارے دو روپے بن جاتے تھے، جس میں سے سات آٹھ آنے سے پیٹ بھر کر کھانا کھا لیتے تھے۔

غلام نبی کے مطابق’آج کل مہنگائی اتنی ہے کہ ایک آدمی ایک وقت میں تیس روپے کی روٹی کھاتا ہے، دو ٹائم کے ساٹھ روپے بنتے ہیں جبکہ دہاڑی سو، سوا سو روپے بنتی ہے‘۔

روٹی روزی کے پیچھےقلیوں کی دوڑ جاری ہے

بہاولپور کے رہائشی غلام نبی کے اہلِ خانہ گاؤں میں رہتے ہیں اور وہ اپنے گاؤں دو تین ماہ کے بعد جاتے ہیں جبکہ ان کے شب و روز ریلوے سٹیشن پر گزرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’کراچی میں مکان کا کرایہ کم سےکم دو ہزار ہے جبکہ پانی، بجلی گیس سمیت تین ہزار خرچہ ہوجاتا ہے۔ اب روزانہ سو روپے کمانے والے کیسے بچوں کے ساتھ کیسے گزارہ کر سکتے ہیں‘۔

غلام بنی کے تینوں بچے صرف قرآن شریف پڑھ سکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فیس اور دیگر خرچوں کے لیئے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بچے سکول نہیں جا سکے۔

غلام نبی کی عمر ستر سال ہے۔ دائیں ٹانگ میں چوٹ لگنے کے بعد انہیں چلنے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’طاقت ختم ہوگئی ہے، مجبوری کام کرا رہی ہے نہیں تو یہ عمر کام کرنے کی تو نہیں ہے‘۔

ایبٹ آباد کے رہائشی قلی گلستان بارہ سال سے کام کر رہے ہیں۔ وہ بدلتے حالات کو روٹی کی قیمت کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ان کے مطابق جب انہوں نے یہ کام شروع کیا تو اس وقت ڈیڑھ روپے کی روٹی تھی جو اب تین روپے کی ہوگئی ہے اور جو سبزی چار پانچ روپے میں ملتی تھی اب بیس روپے کی ہے۔

گلستان روزانہ سو ڈیڑھ سو روپے کماتے ہیں جس میں سے آدھی رقم کھانے پینے پر خرچ ہوجاتی ہے۔ان کے دو بچے ہیں جو ایبٹ آباد میں رہتے ہیں۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ ان کو ساتھ رکھ نہیں سکتے۔ بچوں کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ’ کون بچوں سے دور رہنا چاہےگا‘۔

اب تو غریب آدمی کا خرچہ ہی نہیں پورا ہوتا

کراچی میں بہت کم قلی ہیں جو اپنے بچوں کے ساتھ رہتے ہیں مگر انہیں گھر چلانے کے لیئے دوہری ڈیوٹی کرنی پڑتی ہے۔ وہ دن میں قلی کا کام کرتے ہیں تو رات کو کہیں چوکیداری یا مزدوری کرنی پڑتی ہے۔

چھبیس سالوں سے قلی کا کام کرنے والے عزیز الرحمان بھی ان قلیوں میں سے ہیں جن کے بچے ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پہلے اتنی مہنگائی نہیں تھی اب تو غریب آدمی کا خرچہ ہی نہیں پورا ہوتا اور بہت تنگی کے ساتھ گزارا ہوتا ہے۔

کراچی میں ہڑتال کی وجہ سے قلی دہاڑی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ گلستان کے مطابق کبھی کبھی کھانا کھانے جتنی بھی دہاڑی نہیں ملتی اور ہم جمع کیئے ہوئے پیسوں میں سے خرچ کرتے ہیں۔

مہنگائی میں عام لوگوں کی بچت کی کوشش سے بھی قلی متاثر ہوتے ہیں۔ گلستان کے مطابق لوگ سوچتے ہیں کہ یہ بیس تیس روپے بچ جائیں گے اور وہ خود ہی سامان اٹھا لیتے ہیں۔’اب اگر وہ سامان نہیں اٹھوائیں گے تو ہماری دہاڑی نہیں بنےگی‘۔

پاکستان میں قلیوں کی کوئی یونین نہیں ہے اور نہ ہی ان کی فلاح اور بہبود کا کوئی ادراہ ہے۔گلستان کے مطابق’مزدور کی کون سنتا ہے۔ اگر میں کسی کے آگے بات کرنے کی جرات کر بھی لوں تو میری کون سنے گا‘۔ مزدوروں کے عالمی دن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ یہ دن چھٹی اور آرام کا ہوتا ہے مگر ہم چھٹی کریں گے تو دہاڑی گنوائیں گے، کیونکہ کمائیں گے تو کھائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد