پاکستان ’مزید ناکام‘ ریاست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں خارجہ پالسی کے جریدے ’فارِن پالیسی‘ اور تنظیم ’فنڈ فار پِیس‘ نے دنیا کی نا کام ریاستوں کی دوسری فہرست شائع کی ہے۔ اس فہرست میں اول نمبر پر سوڈان ہے جبکہ پاکستان نویں نمبر پر ہے۔ پاکستان پچھلے سال کی فہرست میں چونتیسویں نمبر پر تھا لیکن نئی فہرست میں اس کی پوزیشن مزید کمزور ہوئی ہے اور اب وہ نویں نمبر پر ہے۔ اس کی اہم وجہ قبائلی علاقوں میں مزاحمت پر حکومت کا قابو نہ پانا ہے۔ اس کے علاوہ پوزیشن بدتر ہونے کی وجوہات میں اکتوبر کے زلزلے کے بعد کی صورتحال اور ملک میں نسلی کشیدگی کا جاری رہنا شامل ہیں۔ منگل دو مئی کو جاری ہونے والی اس فہرست میں 146 ممالک کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ریاستوں کی نا کامی کا اندازہ کئی عوامل کی بنیاد پر کیا گیا۔ نا کام ریاست وہ بتائی گئی ہے جس میں حکومت کا ملک پر مثبت کنٹرول نہ ہو، جس میں عوام کی بڑی تعداد حکومت کو جائز نہ مانے، جس میں حکومت اپنے شہریوں کو بنیادی سہولتیں نہ فراہم کر رہی ہو اور جہاں حکومتی فوج کے علاوہ کئی مسلح گروہ حاوی ہوں۔ نئی فہرست میں شامل 20 سب سے زیادہ کمزور قرار دی گئی ریاستوں میں سے 11 افریقہ میں ہیں۔ عراق اس فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے جبکہ افغانستان دسویں نمبر پر ہے۔ جنوبی ایشیا کے ممالک میں سے پاکستان اس فہرست میں نو نمبر پر ہے، بنگلہ دیش انیسویں نمبر پر، نیپال بیس پر اور سری لنکا پچیسویں نمبر پر ہے۔ فہرست میں شمالی کوریا چودہویں نمبر پر ہے جبکہ ایران بانویں نمبر پر ہے۔ سنہ 2006، نا کام ریاستوں کی جزوی فہرست: |
بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||