BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 July, 2006, 15:07 GMT 20:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بودھی‘ درخت کاٹے جانے پر تنازعہ

بودھ مذہب کے پیروکاروں کے لیے یہ درخت مقدس ہے
بُدھ مذہب کے لیے بےحد مقدس تصور کیے جانے والے ’بودھی‘ درخت کی شاخ کاٹے جانے کی ’خبر‘ نے پٹنہ سے دلی تک سرکاری اہلکاروں کی نیند اڑا دی ہے۔

بہار کے ہوم سیکرٹری افضل امان اللہ حقیقت جاننے کے لیے ایک ٹیم لیکر بودھ گیا گئے ہیں۔

ایک سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ اس خبر کے نشر ہونے کے بعد وزیراعظم منموہن سنگھ کے دفتر سے بھی اس بارے میں رپورٹ طلب کی گئی ہے۔

جمعرات کو ایک نجی ٹی وی چینل نے یہ خبر دکھائی تھی کہ بودھ گیا کے جس مقام پر بدھ مذہب کے بانی گوتم بدھ کو ’گیان‘ ملا تھا وہاں موجود پیپل کے درخت کی شاخ کاٹ لی گئی ہے۔اس خبر کو ریاست کے تمام روزناموں نے نمایاں طریقے سے شائع کیاہے۔

گیا ضلع کے مجسٹریٹ اور مہابودھی مندر کی مینیجمینٹ کمیٹی کے صدر جیتندر شریواستو نے اس خبر کو بے بنیاد بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس شاخ کے کاٹے جانے کی شکایت کی جا رہی ہے وہ کئی سال پہلے کاٹی گئی تھی۔

لیکن اس سلسلے میں آل انڈیا مہا بودھی مہاوہار مکتی تحریک کے صدر بھنتے آنند کا کہنا ہےکہ ان کی اطلاع کے مطابق بودھی درخت کی شاخ حال میں کاٹی گئی ہے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ اس ٹہنی کو جاپان کی کسی مذہبی شخصیت کو دو کروڑ روپے میں بیچا گیا ہے۔

بھنتے آنند کئی سالوں سے مہابودھی مندر کی انتظامیہ پر غیر بودھوں کے قبضے کی مخالفت میں تحریک چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک اس کمیٹی کو غیربودھ اپنے ہاتھ میں لیے رہیں گے، ایسے معاملات سامنے آتے رہیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ جس درخت کی شاخ کاٹے جانے کی بات سامنے آئی ہے اس کے دو چار پتوں کے عالمی بازار میں ہزراوں روپے مل جائیں گے۔ ان کے مطابق اس درخت کی شاخ کی قیمت بآسانی کروڑں روپے میں ہوسکتی ہے۔

بھنتے آنند کے الزمات کے جواب میں مہابودھی مندر کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر کالی چرن سنگھ یادو کا کہنا ہے کہ جس شاخ کو کاٹے جانے کی شکایت کی جارہی ہے وہ قریب پینتیس سال پہلے ماہرین کے مشورے پر کاٹی گئی تھی۔

اسی طرح کی بات مندر کے پجاری بھنتے بودھی پال بھر کرتے ہیں۔ بھنتے بودھی پال کا کہنا ہے کہ مہابودھی مندر اور مہابودھی درخت دونوں کی حفاظت کے لییے اس کی مذکورہ شاخ کو انیس سو ستر کے عشرے میں کاٹا گیا تھا۔

اسی بارے میں
بدھ مت کے نغموں کا اعزاز
08 December, 2003 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد