بامیان کےمجسموں کی لیزر شبیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں طالبان نے مہاتما بدھ کے جن دو مجسموں کو تباہ کر دیا تھا ان کو لیزر شعاعوں کے ذریعے دوبارہ وجود میں لانے کی تجویز کیلی فورنیا کے ایک آرٹسٹ نے پیش کی ہے۔ موجودہ افغان حکومت اس تجویز کے حق میں ہےکہ بامیان کے پہاڑوں پر ان مجسموں کا عکس اس طرع اتار دیا جائے کہ یہ اصل کی طرح معلوم ہوں۔ آرٹسٹ ہیرو یاماگتا کی اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اقوام متحدہ کی ثقافتی تنظیم یونیسکو کی اجازت کا انتظار ہے۔ مسٹر یاما گتا کے مطابق ان کے منصوبے پر کل پچاس لاکھ ڈالر رقم خرچ ہوگی اور یہ دو سال میں مکمل ہو گا۔ افغانسان کے بامیان صوبے کی گورنر حبیبہ سروبی نے کہا ہے کہ اگر اس منصوبے سے ماحولیات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا تو ہم اس کی حمایت کریں گے کیونکہ اس سے بامیان میں سیاحت کو فروغ ملے گا۔ طالبان نے سن دو ہزار میں ان مجسموں کو تباہ کر دیا تھا کیونکہ یہ ان کے سخت گیر اسلامی نظریات کے خلاف تھے، باوجود اس کے کہ دنیا بھر سے انہیں ایشیا میں آثار قدیمہ کے اس سب سے بڑے خزانے کو محفوظ رکھنے کی اپیل کی گئی تھے۔ یہ دو مجسمے سولہ سو سال پرانے تھے اور انہیں بامیان کے پہاڑوں کی کی ڈھلوان پر بنایا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||