ماضی کے مجاہد، حال کے کوہ پیما | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک سابق افغان مجاہد کو کوہ پیمائی کا رہنما بنانے کا بیڑا ایک اطالوی کمپنی نے اٹھایا ہے۔ روم سے تعلق رکھنے والی ایک کمپنی’ ماؤنٹین ولڈرنیس‘ نے اس سلسلے میں کابل کی شمالی پہاڑیوں میں کوہ پیمائی کورس بھی منعقد کیا ہے۔ افغانستان میں سیاحت اور کوہ پیمائی کی صنعت پہلے روسیوں کے خلاف جنگ اور پھر اندرونی خانہ جنگی کے باعث جمود کا شکار ہو گئی تھی اور اب بھی حفاظتی مجبوریوں کی بنا پر امریکہ اور دیگر ممالک کی حکومتیں اپنے شہریوں کو افغانستان کا سفر نہ کرنے کی صلاح دیتی ہیں۔ تاہم اب ان حالات میں تبدیلی کا آغاز ہو گیا ہے اور کوہ پیمائی کے شائقین نے اس ملک کا رخ کرنا شروع کردیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مذکورہ اطالوی کمپنی نےکوہ پیمائی کے رہنماؤں کے طور پر کام کرنے کے لیے ان افغانوں کی تربیت کا کام شروع کیا ہے۔ اس تربیتی گروپ کے سربراہ پروفیسر کارلو پائنلی کا کہنا ہے کہ یہ لوگ سیاحوں کی آمد کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم کوہِ ہندو کش کے دروازے کو پیمائی کے لیے کھولنا چاہتے ہیں‘۔ پروفیسر کارلو نے 1960 میں پہلی مرتبہ اس پہاڑی سلسلے میں کوہ پیمائی کی تھی۔ انہوں نے اس علاقے میں کوہ پیمائی کے دوبارہ آغاز کی کوششیں دو برس قبل شروع کی تھیں۔
اس کورس میں حصہ لینے کے لیے بائیس افراد کو منتخب کیا گیا ہے جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ ان بائیس افراد میں سے نو سابق مجاہدین ہیں اور ان کا انتخاب اقوامِ متحدہ کی مدد سے مجاہدین کو غیر مسلح کرنے والی ایک تنظیم نے کیا ہے۔ کوہ پیمائی کے گائیڈ تیار کرنے کے اس کورس کو آغا خان فاؤنڈیشن اور اور امریکہ کی بین الاقوامی ترقی کی ایجنسی کی مدد بھی حاصل ہے۔ ایک سابق افغان مجاہد کمانڈر رحیم خان کا کہنا تھا کہ’مجھے ان پہاڑیوں میں روسیوں کے خلاف لڑائی کا وسیع تجربہ ہے اور اب اس تجربے کو میں ایک پر امن مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہوں‘۔ کابل کے شمال میں واقع پنج شیر وادی میں تربیت کے لیے جانے سے قبل ان بائیس طلباء و طالبات کو بنیادی حفاظتی اصولوں کے بارے میں تعلیم دی گئی ہے۔ اس تعلیم کے دوران ان افراد کو علاقے کی جغرافیائی ماہیت اور ارضیات کے بارے میں بھی پڑھایا گیا ہے۔ اس کورس میں شامل افراد نے 5000 میٹر سے بلند چوٹیوں پر تربیت حاصل کی۔ اس تربیت کے دوران انہیں برفانی میدانوں اور گلیشیئروں کو عبور کرنا اور چٹانوں پر چڑھنے کی تعلیم دی گئی۔ اس کورس میں شامل ایک خاتون روحینہ اس سلسلے میں بہت پرجوش تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ تین برس قبل تو میں اپنے گھر سے بھی نہیں نکل سکتی تھی اور اب میں نے ایک پہاڑ سر کر لیا ہے‘۔ تمام بائیس افراد نے کوہ پیمائی کی رہنمائی کے اس بنیادی کورس میں کامیابی تو حاصل کی ہے لیکن پہاڑوں کے بارے میں معلومات رکھنے کے باوجود ایک کوہ پیما رہنما بننا ان افراد کے لیے ایک مشکل عمل ہے۔یہ تمام افراد انگریزی سے نابلد ہیں جو کہ غیر ملکی کوہ پیماؤں سے رابطے کے لیے نہایت ضروری ہے تاہم پروفیسر کارلو پائنلی کا کہنا ہے کہ ’ یہ پہلا قدم ہے‘۔ پروفیسر پائنلی کو امید ہے کہ یہ افراد کوہ پیمائی اور پہاڑ نوردی کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں گے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان رہنماؤں کو مستقل گاہک ملنے میں وقت لگے گا۔ وہ اگلے برس واخان کے علاقے میں ایک زیادہ بہتر کورس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ واخان میں افغانستان کی بلند ترین چوٹیاں واقع ہیں۔ افغانستان دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے ایک پر کشش ملک ہے۔ اس میں دنیا کے بلند و بالا ترین پہاڑ واقع ہیں اور ان میں سے کچھ کو ایک مرتبہ بھی سر نہیں کیا گیا ہے۔ افغانستان کی بلند ترین چوٹی کی اونچائی 7500 میٹر ہے اور اسے آخری مرتبہ بیس برس قبل سر کیا گیا تھا لیکن اب لگتا ہے کہ افعانستان میں کوہ پیمائی کے ایک نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||