K2 سر کرنےکی پچاسویں سالگرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع دنیا کی دوسری بڑی چوٹی K2 کو سر کرنے کی پچاسویں سالگرہ اس اختتام ہفتہ منائی جارہی ہے۔ اس موقع پر اسے دوبارہ سر کرنے کئی کوششیں گئی ہیں۔ K2 کی شکل مصر کے اہراموں سے ملتی جلتی ہے۔ پچھلے تین سال کی کوششوں کے دوران کئی کو پیما اسے سر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جن میں سپین کی ایک خاتوں ایدرونے پاسبان بھی ہیں۔ ان سے پہلے پانچ خواتین چوٹی سر کرنے کی کوشش کے دوران ہی ہلاک ہو گئی تھیں۔ پچاس سال پہلے دو اطالوی کوہ پیما اچیلے کیمپگ نونی اور لینو لیجیڈ یلی اسے پہلی بار سر کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ اور پچاسویں سالگرہ کے موقعہ پر بھی اطالوی کوہ پیما پیش پیش رہے۔ ان میں سے پانچ پیر کے دن چوٹی پر پہنچے تھے۔ قراقرم کے سلسے کا یہ پہاڑ کوہ پیماؤں کے دلوں میں خوف پیدا کرتا ہے۔ جیسا پہلے ذکر آیا ہے اس کی شکل اہرام سے ملتی جلتی ہے، اس کی ڈھلواں اور خطرناک چڑھائی اور پھر چوٹی کے نزدیک خالص برف اسے ماؤنٹ ایورسٹ سے کہیں زیادہ پر خطر بنادیتی ہے۔ اسی لئے K2 پر چڑھنے والوں میں اموات کی شرح ایورسٹ سے زیادہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||