BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 July, 2004, 21:14 GMT 02:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کےٹو پر پہلی مہم
کے ٹو
1954 میں کوہ پیماؤں کی کےٹو سے واپسی
کےٹو سر کرنے کی پچاسویں برسی کے موقع پر سینکڑوں کوہ پیما اور سیاح پاکستان کے شمالی علاقے سکردو میں اکٹھے ہوئے ہیں۔

دنیا کی دوسری اونچی چوٹی کےٹو کے راستے میں سکردو آخری گاؤں ہے جہاں کوہ پیمائی کی تاریخ پر ایک عجائب گھر بنایا گیا ہے جو اتوار سے کھولا جا رہا ہے۔

انیس سو چوون میں دو اطالوی کوہ پیماؤں لینو لاسیدلی اور ایچل کومپانونی نے پہلی دفعہ کے ٹو کو سر کیا تھا۔ اس برسی کے موقع پر کومپانونی ایک بار پھر پاکستان میں ہیں۔

آٹھ ہزار چھ سو میٹر اونچی کےٹو کو

News image
کے ٹو سر کرنے کی ایک اور تاریخی تصویر
کوہ پیما عام طور پر دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ سے زیادہ مشکل قرار دیتے ہیں۔

کےٹو اتنی خطرناک ہے کہ اس کے خطرات کو ہالی ووڈ کی کئی فلموں میں ڈرامائی طور پر پیش کیا گیا ہے۔

پچاس سال پہلے اطالوی کوہ پیماؤں کا اس چوٹی کو سر کرنا اتنا ہی بڑا کارنامہ تھا جتنا کہ ایڈمنڈ ہلری اور تینزگ نورگے کا تھا جب انہوں نے انیس سو ترپن میں ایورسٹ سر کی تھی۔

چار ارکان پر مشتعمل اطالوی ٹیم کو اس وقت اہم فیصلہ کرنا تھا جب آٹھ ہزار ایک سو پچاس میٹر کی بلندی پر ان کی آکسیجن ختم ہو گئی تھی۔لاسیدلی اور کومپانونی نے بغیر آکسیجن آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا جب کہ ان کے دوسرے دو ساتھی نیچے اتر آئے۔

دونوں کو انتہائی دشوار صورتحال کا سامنا تھا اس لیے کہ اتنی بلندی پر آکسیجن کے بغیر سانس لینا مشکل تھا اور موسم بھی خراب ہو رہا تھا۔چوٹی پر پہنچ کر ان کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ اپنی فتح کو منا سکتے اور روشنی میں تیزی سے کمی کی وجہ سے زیادہ دیر رک نہیں سکتے تھے۔

ان کی واپسی بالکل ایسے ہی تھی جیسے ’بوائز اون‘ میں سین ہیں۔ ان میں سے ایک ساتھی گر گیا لیکن عین وقت پر ایک چٹان کے ساتھ لٹک کر اس نے ہزاروں میٹر نیچے پھسلنے سے اپنے آپ کوبچالیا۔ ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہوئے یہ جوڑا جب بیس کیمپ پہنچا تو ان کے ساتھیوں نے انہیں گرم گرم چائے سے خوش آمدید کہا۔

کومپانونی نے بتایا ’وہ ایک بہت ہی عظیم تجربہ تھا۔ ہم کےٹو فتح کرنے کا خواب لے کر جوش میں اٹلی سے نکلے تھے لیکن ہمیں آنے والے خطرات کا بھی کھٹکا لگا رہتا تھا۔ہمیں معلوم تھا کہ یہ آسان نہ ہوگا لیکن ہمارا پختہ ارادہ تھا۔ ہم ستر دن بیس کیمپ میں رہے جن میں سے چالیس دن موسم خراب رہا‘۔

اس پچاس سالہ برسی کے موقع پر کومپانونی کے لیے ایک اضافی فخر کی بات یہ ہے کہ اسی سال جولائی میں ان کے بھتیجے مائیکل کومپانونی نے کےٹو سر کی ہے۔

اب تک ایک سو اٹھانوے کوہ پیما کےٹو سر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور ان میں سے ترپن ہلاک ہوئے۔اس پر شرح اموات چھبیس فی صد تھا جب کہ ایورسٹ تقریباٰ دو ہزار مرتبہ سر کی جا چکی ہے اور اس میں کوئی ایک سو اناسی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس طرح اس پر شرح اموات نو فی صد سے کچھ زیادہ تھا۔

پچاس سال پہلے اطالوی کےٹو سر کر سکے اس لیے کہ وہ منظم، تجربہ کار اور جسمانی طور پر اس مہم کے لیے تیار تھے۔اس کے لیے دس اطالوی کوہ پیماؤں کو سخت ٹریننگ سے گزرنا پڑا۔

کومپانونی نے کہا کہ ’آپس میں تعاون اور ٹیم ورک ہماری کامیابی کی وجہ تھی‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد