’ کے ٹو‘ کی گولڈن جوبلی تقریبات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے دنیا کی دوسری اور پاکستان کی سب سے بلند پہاڑی چوٹی ’ کے ٹو‘ سر کرنے والے تمام غیر ملکی اور ملکی کوہ پیماؤں کو قومی تمغے دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان سنیچر کے روز کے ٹو سر کرنے کی پانچ روزہ گولڈن جوبلی تقریبات کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے سات ہزار میٹر تک جانے کے لیے مقرر کردہ فیس آئندہ تین برسوں تک نصف کرنے کا اعلان بھی کیا جبکہ انہوں نے پاکستان میں سیاحت کے فروغ بالخصوص کوہ پیمائی کو ترقی دینے اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے پچاس لاکھ روپے کی امداد دینے کا بھی وعدہ کیا۔ وزیراعظم نے انگریزی کی لکھی ہوئی تقریر میں تو پانچ بلین کہا تھا لیکن سیاحت و ثقافت کے محکمہ کے ایک سینیئر افسر نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ رقم پانچ ملین ہے۔ تقریب میں اٹلی اور آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک کے کئی کوہ پیما اور مندوبین کے علاوہ سفارتکار بھی شریک تھے۔ دنیا کی دوسری بڑی پہاڑی چوٹی کے ٹو کو، جس کی سطح سمندر سے بلندی 8611 میٹر ہے‘ سر کرنے کی پہلی کوشش اٹلی کے کوہ پیماؤں نے 1909 میں کی تھی جو کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ مختلف ممالک کے کوہ پیما کے ٹو سر کرنے کی وقت بوقت کوشش کرتے رہے ہیں لیکن کامیابی پھر بھی اٹلی کے کوہ پیماؤں کو اکتیس جولائی سن انیس سو چون میں نصیب ہوئی۔ اٹلی کے دو کوہ پیماؤں اچیلی کومپاگنونی اور لینولیسی ڈیلی، دنیا کے پہلے کوہ پیما تھے جو یہ چوٹی سر کرنے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے پہاڑی سلسلہ میں واقع کے ٹو کی چوٹی چار پاکستانیوں نے بھی سر کی ہے۔ جس میں اشرف امان نے 1977 ، نذیر صابر نے 1981 جبکہ رجب شاہ اور مہربان شاہ نے 1996 یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ گولڈن جوبلی تقریبات کے موقعہ پر اٹلی کے تعاون سے کے ٹو کے اسکردو کے قریب واقع بیس کیمپ میں کوہ پیمائی کا ایک عجائب گھر بھی تعمیر کیا جا رہا ہے جس کا ڈیزائن اٹلی کے ہی نقشہ نگار اور انجینیئر سیلویو کالوی نے تیار کیا ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے کالوی نے بتایا کہ اہرام مصر اور کے ٹو کی شکل کا یہ میوزیم پاکستان اور اٹلی کی دوستی کی علامت ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میوزیم کا ڈھانچہ اسٹیل کا ہوگا اور یہاں مقامی لوگوں سے کوہ پیمائی میں استعمال ہونے والی پرانی اشیاء جمع کر کے رکھی جائیں گی۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ کے ٹو کی گولڈن جوبلی تقریبات پاکستان کی سیاحت کے لیے نیک شگون ثابت ہوگا۔ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد پاکستان میں سیاحت میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے اور گزشتہ دنوں گلگت میں لاقانونیت اور کرفیو کی خبروں نے سیاحت کے موجودہ سیزن کو خاصا متاثر کیا ہے۔ پانچ روزہ تقریبات کے سلسلے میں آئے ہوئے وفود گیارہ جولائی کو حکومتِ پاکستان کے انتظامات کے تحت اسکردو روانہ ہوں گے اور پندرہ کو واپس جائیں گے۔ وفد میں سیاحت کے شوقین افراد اور صحافیوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ اس تمام اقدامات کا مقصد لوگوں میں سیاحت کا شوق بیدار کرنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||