بھارتی لیچی کی کہانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مظفرپور کے لوگ اسے درخت سے ملنے والا رس گلاّ کہتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ اس رس گلے کا رنگ اوپر سے لال اور اندر سے سفید ہوتا ہے۔ آجکل اس علاقہ میں ہر گلی کوچے، چوک چوراہے، بس سٹینڈ اور ریلوے سٹیشن پر اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا ہے۔ دنیا اسے لیچی کہتی ہے۔ لیچی پیدا ہونے کو تو ہندوستان کے دیگر حصے میں بھی ہوتی ہے مگر جو بات مظفرپور کی شاہی لیچی کی ہے، وہ دوسروں میں نہیں۔ اسکی شہرت کا اندازہ اس بات سے لگ سکتا ہے کہ بہار میں لیچی چاہے کسی بھی علاقے کی ہو وہ بکتی ہے مظفرپور کے نام پر۔ لیچی کی پیداوار کے لحاظ سے ہندوستان چین کے بعد دنیا میں دوسرے مقام پر ہے۔ مگر پورے ملک کی تقریباً پچھتر فی صد لیچی مظفرپور اور اطراف کے علاقوں میں ہوتی ہے۔ ہندوستان میں لیچی کی کاشت تقریباً سوا چار لاکھ ٹن سالانہ ہے۔ مظفرپور کے شوقین شاہی لیچی کو سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ دقت یہ ہے کہ بارش ہونے سے پہلے اس میں مٹھاس کم ہوتی ہے اور بارش کے ہفتہ بھر بعد اس میں کیڑے لگنے لگتے ہیں۔ شاہی کے بعد سب سے زیادہ ’چائنہ‘ لیچی کا نمبر آتا ہے۔ اس کے علاوہ ’لونگیا’ اور ’بدانہ’ اقسام کی لیچی بھی ہوتی ہیں مگر ان کی پیداوار کم ہے۔ لیچی کا شمار بہار کی ان چند چیزوں میں ہوتا ہے جن کی وجہ سے ریاست کی شہرت ہے مگر اسکی کھیتی میں لگے کاشتکار بہت خوش نہیں۔ پورے علاقے میں لیچی کی کھیتی پر نظر رکھنے والے اور خود اس کی تجارت میں لگے کسان بھولا ناتھ جھا کہتے ہیں کہ سال کے گیارہ مہینے محنت کسان کرتا ہے مگر اس کی محنت کی کمائی صرف ایک ماہ میں دلال غصب کر لیتے ہیں۔ مسٹر جھا کے مطابق لیچی بہت جلد خراب ہونے والا اور بہت کم دن میں ختم ہونے والا پھل ہے۔ اسی وجہ سے کسان اسے جلد سے جلد بیچنا چاہتا ہے۔ اور اسی جلدی کا فائدہ بڑے سوداگر اور دلال اٹھاتے ہیں۔ حکومت کی سطح پر لیچی کو ملک کے دیگر حصے میں بھیجنے کی جو سہولتیں کسانو کو درکار ہے وہ نہیں مل رہیں۔ ان میں دو باتیں خاص طور سے ضروری ہیں۔ ایک تو لیچی کو محفوظ رکھنے کے لۓ متناسب درجہ حرارت والے کنٹینرز کا انتظام ہو۔ اور دوسری ضرورت یہ ہے کہ لیچی کی تجارت کو دلالوں سے نجات دلائی جائے۔ مظفرپور اور متصل علاقوں میں کل پیداوار کی تیس فی صد لیچی کسی نہ کسی وجہ سے برباد ہو جاتی ہے۔ بیس فی صد لیچی مقامی بازار میں فروخت ہوتی ہے۔ بقیہ پچیس پچیس فی صد لیچی یوپی اور ممبئ، دلی کے تجار لے جاتے ہیں۔ سدھا کے مطابق لیچی کی تجارت کا سب سے اچھا طریقے اس کی مقامی سطح پر پروسیسنگ کر اس کے گودے کا استعمال ہے۔ علاقے میں حکومت کی طرف سے پروسیسنگ کا کوئی انتظام نہیں۔ بھولا ناتھ جھا بتاتے ہیں کہ نجی طو پر دو ایک پروسیسنگ یونٹس ہیں بھی تو انہیں بجلی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مسٹر جھا نے بتایا کہ چین میں لیچی کی پیداوار پانچ لاکھ ٹن ہے۔ اس میں سے ساڑھے چار لاکھ ٹن کی پروسیسنگ کی جاتی ہے۔ مظفرپور اور اطراف میں محض چار سو ٹن لیچی کی پروسیسنگ ہوتی ہے۔ لیچی کے درخت کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ اس میں پھول لگتے ہی شہد کی مکھیاں پالی جاتی ہیں۔ اور اس سے تیار ہونے والا شہد کافی عمدہ مانا جاتا ہے۔ مگر یہاں بھی کسانوں کو بہت کم منافع ہو پاتا ہے۔ کسانوں سے لیچی کا شہد تیس سے چالیس روپے خرید کر بڑی کمپنیاں ڈیڑھ سو سے تین سو روپے کیلو شہد فروخت کرتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||