اقبال کا ترانۂ ہند، سو سال بعد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شاعر مشرق علامہ اقبال کے ترانہ ہندی ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘ کے سوبرس مکمل ہوگئے ہیں۔ تحریک آزادی کے دوران یہ سب سے مقبول گیت تھا اور آج بھی اس کی مقبولیت برقرار ہے۔ لیکن اسکے خالق علامہ اقبال کو شاید بھلا دیا گيا ہے۔ ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ہندوستان کی کوئی فوجی تقریب ہو یا حب الوطنی کا کوئی جشن اس گیت کے بغیر وہ ادھورے رہتے ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ انیس سو چار میں جب ڈاکٹر اقبال لاہور کے ایک کالج میں لیکچرار تھے تو اس وقت ان کے ایک شاگرد لالہ ہردیال نے انہیں ایک جلسے کی صدارت کے لیے دعوت دی تھی۔ توقع کے بر خلاف ڈاکٹر اقبال نے اس جلسے میں ایک لمبی سیاسی تقریر کے بجائے یہ ترانہ پیش کیا تھا۔ دورحاضر کے مشہور اردو کے ناقد شمش الرحمن فاروقی کا کہنا ہے کہ یہ گیت جتنا سادہ ہے اس سے کہیں زیادہ دلکش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس ترانے میں اقبال نے ملک کی ثقافت تہذیب اور عظمت سبھی کو پیش کردیا ہے۔ اسکی جامعیت اسکی سب سے بڑی خوبی ہے۔‘ تحریک آزادی کے ایک اور شاعر حسرت موہانی نے اس ترانے پر یہ کہ کر تنقید کی تھی کہ اس میں نغمگی کی کمی ہے، لیکن مسٹر فاروقی کی رائے بالکل مختلف ہے۔ ’اقبال کے کلام میں بلا کا موسیقی کا آہنگ ہے۔ سارے جہاں سے اچھا کی زبان سادہ ہے لیکن نغمگی بھر پور ہے۔ اسکی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ ترانے کی لفظی و معنوی مٹھاس ہے۔‘ ان تمام خوبیوں کے باوجود یہ گیت ہندوستان کا قومی ترانہ نہ بن سکا۔ مسٹر فاروقی کہتے ہیں کہ ’اس زمانے میں رابندرا ناتھ ٹیگور کی شخصیت افق پر چھائی ہوئی تھی۔ دوسروں کے مقابلے وہ بڑے فنکار تھے اسی لیے انکے گیت کو ’جن گڑ من ادھینائیک جیۓ ہے‘ قومی ترانے کا درجہ دیا گیا۔ ملکی عظمت اور اسکی خوبیوں کو بیان کرنے کے لیے ڈاکٹر اقبال کے اس گیت کو ہر موقع پر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا خود اسکے خالق کو بھلا دیا گیا ہے؟۔ اردو کے ادیب اور پروفیسر گوپی چند نارنگ کہتے ہیں کہ اس ترانے کی وجہ سے اقبال سے بھی یادیں وابستہ ہیں۔ انیس سو اڑتیس میں اکیس اپریل کو علامہ اقبال کی وفات ہوئی تھی۔ اسکا ذکر کرتے ہوے مہاتما گاندھی نے اپنے ایک دوست کو خط میں لکھا تھا کہ اقبال کے ترانے کو جب پہلی بار سنا تھا تو خوشی سے جھوم اٹھا تھا۔ گاندھی جی نے کہا تھا کہ انہوں نے جیل میں قید کے دوران اس گیت کو سینکڑوں بار پڑھا تھا۔ ہندوستان کے مشہور آسٹروناٹ، آر کے شرما نے پہلی بار چاند پر پہنچ کر یہی گیت گایا تھا۔ خود وزیراعظم منموہن سنگھ نے اپنی پہلی کانفرنس میں ملک کی عظمت بیان کرنے کے لیے اسی ترانے کے اشعار پڑھے تھے۔ اس ترانے کےتخلیق کار کی آج سڑ سٹھویں برسی ہے۔ لیکن ڈاکٹر اقبال کا تذکرہ کہیں نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب وہ لائبریری کی کتابوں تک ہی محدود ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||