رکن پارلیمان اپنی شہریت ثابت کرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نےملک کی شمال مشرقی ریاست آسام کے رکن پارلیمان کو چھ ہفتے کے اندر اپنی شہریت کا ثبوت پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ ریاست آسام کے باشندے بریندر ناتھ کی درخواست پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یہ حکم دیا ہے۔ مسٹر ناتھ نے اپنی درخواست میں رکن پارلیمان ایم کے سبا پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ مسٹر سبا نیپال میں ایک قتل کےمعاملے میں ملوث ہونے کے بعد 1990 میں نیپال سے بھاگ کر ہندوستان آگئے تھے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مسٹر سبا ایک نیپالی شہری ہیں اور ان کا اصل نام منی رام لمبو ہے۔ سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران اس معاملے میں مرکزي تفتیشی ادارے سی بی آئی کی کارروائی پر بھی سخت نکتہ چینی کی۔ گزشتہ برس درخواست موصول ہونےکے بعد عدالت نے سی بی آئی کو اس معاملے کی تفتیس کر نے کا حکم دیا تھا۔ تفتیش کے بعد سی بی آئی نے کہا کہ مسٹر سبا کی شہریت کے معاملے میں ان کے پاس کوئی فیصلہ کن ثبوت نہيں ہے۔ ایم کے سبا آسام کے تیزپور علاقے کے کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمان ہیں۔ اس معاملے پر کانگریس کے ترجمان اور ایم کے سبا کے وکیل ابھیشیک سنگھوی کا کہنا ہے" یہ معاملہ ایک لمبے عرصے سے جاری ہے اور جب عدالت کوئی فیصلہ سنائی گئی اس کے بعد ہی پارٹی کی جانب سے کوئی رد عمل دیا جائے گا۔‘ ملک کی حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان پرکاش جاوڑیکر نے اسے بدعنوانی کا معاملہ قرار دیے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کے خلاف جلد سے جلد کارروائی کی جانی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا ’کسی بھی غیر ملکی کو ہندوستان کی پارلیمان کی رکنیت حاصل کرنے کو بالکل غلط ہے۔‘ ایم کے سبا پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے غلط طریقے اختیار کر کے ہندوستان کی شہریت حاصل کی ہے۔ | اسی بارے میں ’خواتین قیدی اپنے حقوق سے باخبر ہوں‘24 September, 2006 | انڈیا ’نجکاری کے ٹھیکے برقرار رہیں گے‘07 November, 2006 | انڈیا نوئیڈا : سی بی آئی سے انکوائری نہیں03 January, 2007 | انڈیا رشوت کیس:سپریم کورٹ کا فیصلہ10 January, 2007 | انڈیا ’تمام قوانین عدالتی دائرے میں‘11 January, 2007 | انڈیا تاج محل کا معاملہ سپریم کورٹ میں12 August, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||