’نجکاری کے ٹھیکے برقرار رہیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ملک کے دو اہم ہوائی اڈوں کی نجکاری کا ٹھیکہ حاصل کرنے میں ناکام ایک کمپنی کی درخواست مسترد کر دی ہے کہ ان ٹھیکوں کو رد کر دیا جائے۔ ہوائی اڈوں کی نجکاری کے لئے دیے گئے ٹھیکوں کے فیصلے کو صنعت کار انل امبانی کی کمپنی ریلائنس ائرپورٹ ڈویلپر نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ اسی سال فروری میں مرکزي حکومت نے دلّی کے ہوائی اڈے کی نجکاری جی ایم آر نامی کمپنی اور ممبئی ہوائی اڈے کی نجکاری کی ذمہ داری جی وی کے نامی کپمنی کو دی تھی۔ ٹھیکہ حاصل کرنے والی کمپنیاں اپنے بیرونی پارٹنرز کے ساتھ مل کر ہوائی اڈے کی جدید کاری کا کام سر انجام دیں گی۔ ریلائنس کمپنی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں کو ٹھیکہ دینا غیر قانونی ہے۔ کیونکہ بقول ان کے، ان کمپنیوں کو ہوائی اڈوں کی جدیدکاری کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ عدالت نے ریلائنس کی دلیل یہ کہہ کر مسترد کر دی ہے کہ ان کمپنیوں کو بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا تجربہ ہے۔ عدالت نے یہ دلیل بھی نہیں مانی کہ ٹھیکے دینے میں بنیادی ضابطوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اس برس جنوری میں حکومت کے فیصلے پر ہوائی اڈوں کے ملازمین نے احتجاجی طور پر ہڑتال کی تھی۔ ملازمین کا کہنا تھا کہ ہوائی اڈوں کی نجکاری سے ملازمین کی نوکریاں خطرے میں پڑ جائیں گی اور انہیں اپنی روزی سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔ حکومت نے ملازمین کے اندیشوں کو دور کرتے ہوئے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ کسی بھی ملازم کو پہلے تین سال تک نوکری سے نہیں نکالا جائے گا۔ ملک میں بیرونی ممالک سے آنے والے مسافروں کی سالانہ تعداد تقریبا ایک کروڑ 90 لاکھ ہے اور ان میں سے تقریبا 65 فیصد ممبئی اور دلی کے ہوائی اڈوں پر اترتے ہیں۔ مسافروں کی تعداد میں ہر برس تیزی سے اضافے کے سبب ملک کے بیشتر ہوائی اڈوں کی تعمیر نو اور توسیع کی جارہی ہے۔ | اسی بارے میں ’ہوائی اڈوں کی جدید کاری ہوگی ‘03 February, 2006 | انڈیا بیس ہزار بھارتی ملازمین کی ہڑتال 01 February, 2006 | انڈیا ائرپورٹس ٹھیکے نجی کمپنیوں کو 01 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||