’ہوائی اڈوں کی جدید کاری ہوگی ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی حکومت نے کہا ہے کہ دو بڑے ہوائی اڈوں کی جدید کاری نجی کمپنیوں سے کرانے کے اس کے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہيں کی جائے گی۔ جدید کاری کے خلاف ہوائی اڈوں کے ملازمین کی ہڑتال تیسرے روز وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ائیر پورٹ اتھارٹی کے ملازمین سے ملاقات کی اور ان سے جلد سے جلد کام پر واپس آنے کی اپیل کی۔ اس میٹنگ میں شہری ہوا بازی کے وزیر پرفل پٹیل بھی موجود تھے۔ تقریبًا ڈیڑھ گھنٹے کی بات چیت کے بعد پرفل پٹیل نےصحافیوں کو بتایا کہ حکومت ہوائی اڈوں کی جدیدکاری کا عمل جاری رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم نے ملازمین کو یقین دلایا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ’نجی کمپنیوں نےائیرپورٹ اتھارٹی کےساٹھ فیصد ملازمین کو ان کی ملازمتوں پر بحال رکھنےکی ضمانت دی ہے اور ان سے باقی ملازمین کو بحال کرنے کی بھی درخواست کی جائے گي‘۔ ائیر پورٹ اتھارٹی آف انڈیا کے ملازمین کی نمائندگی کرنے والے ایم کے گھوشال نے بتایا کہ انہوں نے ہوائی اڈوں کی جدید کاری کے لیے وزير اعظم کو ایک متبادل تجویز پیش کی ہے۔ مسٹر گھوشال نے کہا کہ’ائیرپورٹ اتھارٹی ایک منافع بخش سرکاری کمپنی ہے اور اس کے ملازمین تکنیکی لحاظ سے تربیت یافتہ ہیں تو پھر کیا وجہ سے کہ ہوائی اڈوں کی ذمہ داری نجی کمپنیوں کے ہاتھوں میں دی گئي ہے‘۔ ہڑتال ختم کرنے کے بارے میں مسٹر گھوشال نے بتایا کہ اس معاملے میں رات گئے تک چلنے والی میٹنگ میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ اس سے قبل جمعہ کی صبح ہڑتالی ملازمین کی بائيں بازو کی جماعتوں نے وزیر اعظم منموہن سنگھ سےملاقات کی تھی۔
وزیراعظم سے ملاقات کے بعد مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری پرکاش کارت نے کہا کہ بائيں بازو کی جماعتوں نے وزیر اعظم پر زور دیا کہ جدید کاری کاکام ائرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا کے پاس ہی رہنے دیا جائے تاہم مسٹر سنگھ اس سے متفق نہيں تھے‘۔ دوسری جانب پورے ملک میں تیسرے روز بھی ہوائی اڈوں کی ہڑتال جاری ہے۔ دلی ممبئی اور کولکتا کے ہوائی اڈوں پر ہڑتال کسی حد تک موثر رہی۔ ہڑتال سے پروازوں کی آمد و رفت پر تو کچھ خاص اثر نہیں پڑا لیکن ہوائی اڈوں کی صفائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ہوائی اڈوں پر چاروں طرف کوڑا بکھرا پڑا ہے اور ٹوائلٹس گندے پڑے ہیں۔ بھارت میں دو بڑے ہوائي اڈوں کی جدید کاری کا کام دو نجی کمپنیوں کو دینے کے حکومت کے فیصلے کے بعد ہوائی اڈوں کے تقریباً بیس ہزار ملازمین نے بدھ کے روز ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا تھا۔ شہری ہوا بازی کی وزارت کے فیصلے کے مطابق دِلّی کے ہوائی اڈے کا کام بھارت اور ایک جرمن کمپنی کے ایک کنسورشیم جی ایم آر فرا پورٹ کرے گا اور ممبئی ہوائی اڈے کا کام جنوبی افریقہ اور بھارت کے کنسورشیم جی وی کے ائیر پورٹس کی نگرانی میں مکمل کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں بھارت: ہڑتال سے ٹویوٹا کا پلانٹ بند09 January, 2006 | انڈیا ’جیل جاؤ گئے یا ہڑتال ختم کرو گے‘21 January, 2006 | انڈیا بیس ہزار بھارتی ملازمین کی ہڑتال 01 February, 2006 | انڈیا ہڑتال دوسرے دن بھی جاری02 February, 2006 | انڈیا اقتصادی اصلاحات: بھارت میں ہڑتال29 September, 2005 | انڈیا بھارت میں ہڑتال کی دھمکی 28 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||