نوئیڈا : سی بی آئی سے انکوائری نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے دلی کے نواحی شہر نوئیڈا میں بچوں اور عورتوں کے قتل کے معاملے کی تفتیش مرکزی تفتیشی بیورو یعنی سی بی آئی کے ذریعےکرانے سے انکار کر دیا ہے۔ دوججوں پرمشتمل بینچ کا کہنا ہے ’ریاستی پولیس، قومی انسانی حقوق کمیشن اور قومی کمیشن برائے خواتین اس معاملے کی پہلے ہی سے تفتیش کر رہے ہیں اور معاملے کے اہم ملزمان بھی حراست میں ہیں اس لیے سی بی آئی کو اس معاملے میں تفتیش کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران نوئیڈا کے نتھاری گاؤں میں ایک گھر کے عقب میں واقع گٹر اور باغیچے کی کھدائی کے بعد سترہ عورتوں اور بچوں کی کھوپڑیاں برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس نے اس سلسلے میں ایک مقامی تاجر اور اس کے نوکر کوگرفتار کیا ہے۔ دریں اثناء مرکزی حکومت نے معاملے کی تفتیش کے لیے چار ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں وزارات داخلہ، وزارت فلاح برائےخواتین و اطفال اور ریاستی حکومت کے نمائندے شامل ہوں گے۔ کمیٹی مقتول بچوں اور خواتین کےجنسی استحصال کی بارے میں تفتیش کر ے گی۔ یہ کمیٹی مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے نپٹنے کے لیے بھی اپنی سفارش پیش کرے گی۔ اسے اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے پندرہ روز کا وقت دیا گیا ہے۔ گزشتہ دو برس میں علاقے سے تیس سے زائد بچوں اور عورتوں کی گمشدگی کی رپورٹ پولیس سٹیشن میں درج کرائی گئی تھیں۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ پولیس نے ایسے کیس درج کرنے سے انکار کیا تھا۔دو برس سے مسلسل گمشدگیوں کی رپورٹوں کے باوجود پولیس نے اس امر کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ انکوائری کمیٹی پولیس کے رول کی تفتیش کرے گی۔ خبروں کے مطابق حکومت نے متاثرین کے بعض اہل خانہ کو دو لاکھ روپے بطورمعاوضہ دیا تھا جسے لواحقین اب حکومت کو واپس کرنا چاہتے ہیں۔ زیادہ ترمتاثرین کے گھر والے دور دراز سے آنے والے مزدور ہیں۔ | اسی بارے میں نوئیڈا سے پندرہ کھوپڑیاں برآمد29 December, 2006 | انڈیا انسانی ڈھانچے، سکیورٹی سخت31 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||