BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 December, 2006, 14:31 GMT 19:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نوئیڈا سے پندرہ کھوپڑیاں برآمد
 وہ گٹر جہاں سے کھوپڑیاں برآمد ہوئیں۔
وہ گٹر جہاں سے کھوپڑیاں برآمد ہوئیں۔
بھارتی دارالحکومت دلی کے نواحی شہر نوئیڈا کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کے قتل کے الزام میں زیرِ حراست افراد نے ممکنہ طور پر پندرہ بچوں اور عورتوں کو قتل کیا ہے۔

ہفتے کو پولیس نے ان افراد کے گھر کے عقب میں واقع گٹر اور باغیچے کی کھدائی کے بعد پندرہ کھوپڑیاں برآمد کی تھیں۔ اس سے قبل اسی گھر سے بچوں کے کپڑے اور انسانی ہڈیوں سے بھرا ہوا ایک تھیلا ملا تھا۔

پولیس نے مدکورہ گھر کی تلاش اس وقت لینا شروع کی تھی جب حراست میں موجود اس گھر کے ایک نوکر نے یہ اقرار کیا تھا کہ وہ چھ بچوں کو جنسی زیادتی کے بعد ہلا ک کر چکا ہے۔

پولیس نے مذکورہ گھر کے مالک کو بھی گرفتار کر لیا اور ہفتے کو مالک اور نوکر دونوں کو مقامی عدالت میں پیش کیا۔ ان دونوں افراد پر ریپ، اغوا اور قتل کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بچوں کو ٹافیوں کے بہانے جبکہ عورتوں کو نوکری کا لالچ دے کر گھر میں لے جایا جاتا تھا اور پھر ان سے زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا۔

نؤئیڈا کے سینئر سپرٹنڈنٹ آف پولیس آر کے راٹھور کا کہنا ہے کہ تاحال پندرہ میں سے دس بچوں کے لواحقین کا پتہ چل چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ بچوں کو ان کے والدین نے ان کے کپڑوں کی مدد سے شناخت کیا‘۔

پہلے اس گھر سے کپڑوں اور انسانی ہدیوں سے بھری بوری ملی تھی

جائے وقوع سے پندرہ کھوپڑیاں ملنے کے بعد سے قریبی کچی آبادی کے ان مکینوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے جن کا دعوٰی ہے کہ مقامی پولیس نے ان کی جانب سے بچوں کی گمشدگی کی اطلاعات پر کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔

فروری میں لاپتہ ہونے والے چار سالہ بچے کے چچا کلدیپ کمار نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ’ ہم نے پولیس سے کہا تھا کہ ہمیں اس شخص پر شک ہے لیکن وہ ہماری بات سننے کے روادار ہی نہیں تھے اور ہم غریب لوگ ہیں، روز تھانے کے چکر نہیں کاٹ سکتے‘۔

مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والے بچوں کی تعداد چالیس ہے اور پولیس بقیہ بچوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
کھیل کھیل میں پھانسی
25 August, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد