انسانی ڈھانچے، سکیورٹی سخت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دارالحکومت دلی سے متصل نوئیڈا کے مختلف جگہوں سےعورتوں اور بچوں کے ہڈیوں کے ڈھانچے برآمد ہونے کے بعد علاقے میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ لاپتہ افراد کے لواحقین نے اس گھر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے جہاں سے پولیس نے ہڈیاں اور کھوپڑیاں برآمد کیں تھیں۔ نیتھاری گاؤں کے مشتعل باشندوں نےمکان پر پتھراؤ کیاہے۔مشتعل بھیڑ پر قابو پانے کے لیے پولیس کو لاٹھی کا استعمال کرنا پڑا ہے۔ علاقے کے سینئر سپرنیٹنڈنٹ آف پولیس آر کے ایس راٹھور نے بی بی سی کو بتایا ’سیکیورٹی اہلکاروں کی مدد سے حالات پر قابو پا لیا گیاہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ سیئنرافسر حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مسٹر راٹھور نے بتایا کہ جمعہ سے اب تک برآمد کی گئی 17 میں سے 12 لاشوں کی شناخت ان کے رشتے داروں نے کر لی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’اس معاملے میں مزید تحقیقات جاری ہیں اور فورنسک جانچ کی رپورٹ کا انتظار ہے۔‘ جعمہ کے روز نوجوان بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد ان کے قتل کا معاملہ روشنی میں آیا تھا۔ اس روز پولیس نے ایک شخص کے اقبالیہ بیان کی بنیاد پر نوئیڈا کے ایک مکان سے بچوں کے کپڑے اور ہڈیوں کے ڈھانچے برآمد کیئے تھے۔ اس مکان کے ایک ملازم نے پولیس کو بتایا تھا کہ اس نے کئی بچوں کے ساتھ جنسی فعل کے بعد ان کا قتل کر دیا تھا۔ وہ ان بچوں کو ٹافی اور مٹھائی کا لالچ دے کراور خواتین کو نوکری دینے کے بہانےگھر میں بلاتا تھا ۔ پولیس نے نوکر اور گھر کے مالک دونوں کو عصمت دری ، اغواء اور قتل کے الزامات میں گرفتار کر لیا تھا۔ نتھاڑی گاؤں سےگزشتہ 21 مہینوں میں 3 سے 11 سال کی عمر کے تقریبا تیس بچے لاپتہ ہیں۔ والدین نے پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے لاپتہ بچوں سے متعلق شکایتی درخواست لکھنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ ریاستی حکومت اس واقعہ کے رونما ہونے کے بعد سے اب تک دو پولیس افسران کاتبادلہ کر چکی ہے۔ | اسی بارے میں جلنے والے بچے 93 سے زیادہ16 July, 2004 | انڈیا انڈیا: برطانوی شہریوں کوقید18 March, 2006 | انڈیا بچوں کی فروخت کا الزام غلط: اہلکار30 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||