بچوں کی فروخت کا الزام غلط: اہلکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی حکومت نے تلورہ مائگرنٹ میں رہائش پزیر کچھ خاندانوں کی طرف سے اپنے بچوں کو بیچنے کے الزامات کی فوری طور پر تحقیقات کاحکم دیا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی رپورٹ چوبیس گھنٹے کے اندر حکومت کو پیش کرے۔ کئی دنوں سے یہ اطلاعات آ رہی تھيں کہ تلورہ مائگرنٹ کیمپ میں عارضی طور پر مقیم خاندان غربت اور مفلسی کے شکار ہیں اورمبینہ طور پر وہ اپنے بچے بھی بچننے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ریاستی اسمبلی میں یہ معاملہ لگاتار دو دنوں تک ہنگامہ کا سبب بنا رہا جبکہ دوسری طرف بدھ کو جموں میں کچھ افراد نےاحتجاج کرکے اس معاملے کو اٹھایا۔ ریاستی سرکار کے ترجمان فارق رنزو کے مطابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے مبینہ نیلامی کی خبروں کا فوری نوٹس لیتے ہوئے چار ارکان پر مشتمل ایک جانچ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ادھم پور حلقہ سے رکن پارلیمان لعل سنگھ کی رہنمائی میں تشکیل کردہ اس کمیٹی کو چوبیس گھنٹوں میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے- ترجمان کے مطابق پچھلے کچھ دنوں سے اس مائگرنٹ کیمپ کے بارے میں کئی طرح کی خبریں آرہی ہیں جن پر سرکار کو کافی تشویش ہے۔ مسٹر رنزو نے کہا: ’اس مسئلے پر چانچ شروع کر دی گئی ہے اور حقائق کوجلد ہی سامنے لایا جائے گا۔‘ حکومت کی طرف سے کی گئی بعض عارضی تحقیقات میں بچوں کے فروخت کے معاملوں کو درست نہیں پایا گیا ہے۔ ریاست کے وزیر خوراک حکیم محمد یاسین نے کہا کہ ضلع انتظامیہ کے کچھ افسران موقع پر گئے تھے لیکن بچوں کو بچننے کا کوئی بھی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے- ادھم پور ضلع کے ڈپٹی کمشنر اشوک پرمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی طرف سے کی گئی چانچ میں اب تک بچوں کے بیچے جانے کے سارے الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں- انہوں نے کہا: ’کچھ بچے شاید کسی گھر میں کام کر رہے ہیں لیکن کسی بچے کو نہ تو فروخت کیا گیا ہے اور نا ہی گروی رکھا گیا ہے-‘ وہیں دوسری طرف مخلوط حکومت میں شامل کانگرس پارٹی کے ریاستی صدر پیرزادہ محمد سید کا کہنا ہے کہ جموں میں بدھ کے روز احتجاج کے طور پر لگائی گئی بچوں کے فروخت کی ’منڈی‘ کا مقصد محض اپنے مسائل کو اجاگر کرنا تھا تھآ- ’ان لوگوں نے بچوں کی منڈی ضرور لگائی تھی لیکن اس کا مقصد شاید اپنے مسائل کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرانی تھی-‘ بدھ کے روز کے احتجاج کے دوران کچھ بچوں نے ایسے پوسٹر اٹھا رکھے تھے جس پر لکھا تھا کہ ہمیں خرید لو۔ کانگریس کے ہی ایک اور رکن نے اپنا نام نہ لکھنے کی شرط پر الزام لگایا کہ بچوں کو فروخت کرنے کے نام پر سیاست کھیلی جا رہی ہے- پینتھرز پارٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’یہ سب ایک سیاسی ڈرامہ ہے اور کانگریس کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے-‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||