’خواتین قیدی اپنے حقوق سے باخبر ہوں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی جیلوں میں قید عورتوں اور ان کے بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیئے سپریم کورٹ نے کچھ ماہ قبل کچھ رہنما اصول جاری کیئے تھے لیکن اب بھی بعض جیلوں میں قید خواتین کو ان اصولوں سے واقفیت نہیں ہے۔ اس صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے اور خواتین قیدیوں میں بیداری پیدا کرنے کے لئے دلی کی تہاڑ جیل میں ایک خصوصی پرگرام منعقد کیا گیا تاکہ خواتین قیدیوں کو سپریم کورٹ کے اصولوں کی روشنی میں اپنے حقوق کا علم ہو سکے۔
اس پروگرام میں خواتین قیدیوں کے لیۓ سب سے خاص بات یہ تھی کہ پروگرام میں حصہ لینے کے لۓ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے بڑے ججز بھی شرکت کر رہے تھے۔شاید بعض خواتین کو سپریم کورٹ کے مقرر کردہ اصولوں کی نسب زیادہ دلچسپی اس بات میں تھی کہ انہیں وہ جج نظر آجائيں جنہوں نے انکی زندگی کا فیصلہ سنایا ہے۔ ہرکیشکی نامی ایک خاتون قیدی سے جب اس خصوصی پروگرام کے بارے میں پوچھا گیا تو انکا کہنا تھا: ’مجھے نہیں پتہ یہ سب کس لئے ہو رہا ہے۔ اس کے بارے میں تو سپریٹنڈنٹ میڈم کو ہی پتہ ہوگا۔ ہم تو صرف دیکھنے آ گئے ہیں۔‘
جبکہ چندروتی نامی ایک دوسری قیدی کا کہنا تھا: ’میں گزشتہ 18 برس سے یہاں رہ رہی ہوں لیکن اس طرح کا کوئی پروگرام منعقد نہیں کیا گیا۔ آج یہاں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے بڑے بڑے ججز آ رہے ہیں شاید اسی لئے اتنی سجاوٹ کی گئی ہے۔‘ خواتین قیدیوں کو اصولوں سے آگاہی دینے کے لیئے فیصلہ کیا گیا کہ تہاڑ جیل میں قید چن خواتین کو متخب کر کے ایک چھوٹا سا ڈرارمہ پیش کیا جائے۔ ڈرامے میں دکھایا گیا کہ جب ایک خاتون کو پولس گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیتی ہے تو اس کے گھروالے، خاص طور سے اس کے بچے، کن مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ان مشکلات سے نمٹنے کے لئے وہاں موجود ديگر قیدی سپریم کورٹ کے ان اصولوں کے بارے میں اس خاتون کو بتاتے ہیں۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کے جج اریجت پساریتھ نے سپریم کورٹ کے ان نئے اصولوں کے مقاصد کے بارے میں بتایا: ’عدالت ان بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے جنہوں نے جیل میں جنم لیا ہے۔اور عدالت یہ نہیں چاہتی تھی کہ والدہ کی وجہ سے بچوں کا مستقبل متاثر ہو جائے۔‘
گزشتہ اٹھارہ برسوں سے تہاڑ جیل میں قید چندراوتی اور ہرکیشوری کے لۓ ایسا پروگرام پہلی بار ہو رہا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ اس سے قبل یہاں کبھی اس قسم کی سجاوٹ نہیں ہوئی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں اس قسم کے پروگرام سےکہیں نہ کہیں ان قیدیوں میں وہ انسان ابھر کر سامنے آتا ہے جو جیل کی دیواروں ميں قید رہتا ہے۔ قیدیوں کے لئے اس قسم کے پروگرام عام نہیں ہیں اور اپنے آپ کو انسان کی طرح پیش کرنےکے مواقع انہيں کم ہی ملتے ہیں۔ | اسی بارے میں سلاخوں کے پیچھے سے۔۔۔11 November, 2003 | فن فنکار ابوسالم مذہب کی طرف راغب30 January, 2006 | انڈیا بہار: ماؤ باغیوں نے ساتھی چھڑا لیے 14 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||