BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 September, 2006, 13:15 GMT 18:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خواتین قیدی اپنے حقوق سے باخبر ہوں‘

خواتین قیدیوں میں سے اکثر کو علم نہیں کہ سپریم کورٹ نے رہنما اصول مقرر کیئے ہیں
انڈیا کی جیلوں میں قید عورتوں اور ان کے بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیئے سپریم کورٹ نے کچھ ماہ قبل کچھ رہنما اصول جاری کیئے تھے لیکن اب بھی بعض جیلوں میں قید خواتین کو ان اصولوں سے واقفیت نہیں ہے۔

اس صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے اور خواتین قیدیوں میں بیداری پیدا کرنے کے لئے دلی کی تہاڑ جیل میں ایک خصوصی پرگرام منعقد کیا گیا تاکہ خواتین قیدیوں کو سپریم کورٹ کے اصولوں کی روشنی میں اپنے حقوق کا علم ہو سکے۔

اس پروگرام میں خواتین قیدیوں کے لیۓ سب سے خاص بات یہ تھی کہ پروگرام میں حصہ لینے کے لۓ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے بڑے ججز بھی شرکت کر رہے تھے۔شاید بعض خواتین کو سپریم کورٹ کے مقرر کردہ اصولوں کی نسب زیادہ دلچسپی اس بات میں تھی کہ انہیں وہ جج نظر آجائيں جنہوں نے انکی زندگی کا فیصلہ سنایا ہے۔

ہرکیشکی نامی ایک خاتون قیدی سے جب اس خصوصی پروگرام کے بارے میں پوچھا گیا تو انکا کہنا تھا: ’مجھے نہیں پتہ یہ سب کس لئے ہو رہا ہے۔ اس کے بارے میں تو سپریٹنڈنٹ میڈم کو ہی پتہ ہوگا۔ ہم تو صرف دیکھنے آ گئے ہیں۔‘

سپریم کورٹ کے رہنما اصول
جیل میں موجود لیگل سیل قیدی کو ضمانت حاصل کروانے کے لئے مفت وکیل فراہم کرے گا۔:حاملہ عورت کی جانچ سرکاری ہسپتال میں کی جائے گی۔ اگر کسی بچے کی پیدائش جیل میں ہوئی تو اس کے 'برتھ سرٹیفیکٹ' میں جیل کا پتہ نہیں لکھا جائے گا۔حاملہ عورت اگر اپنے بچے کی پیدائش سرکاری ہسپتال میں کروانا چاہے گی تو اسے ضمانت دی جائے گی۔خاتون قیدی کے ساتھ اس کا بچہ بھی جیل میں رہ سکے گا جس کی پرورش کی ذمہ داری جیل انتظامیہ پرہوگي۔

جبکہ چندروتی نامی ایک دوسری قیدی کا کہنا تھا: ’میں گزشتہ 18 برس سے یہاں رہ رہی ہوں لیکن اس طرح کا کوئی پروگرام منعقد نہیں کیا گیا۔ آج یہاں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے بڑے بڑے ججز آ رہے ہیں شاید اسی لئے اتنی سجاوٹ کی گئی ہے۔‘

خواتین قیدیوں کو اصولوں سے آگاہی دینے کے لیئے فیصلہ کیا گیا کہ تہاڑ جیل میں قید چن خواتین کو متخب کر کے ایک چھوٹا سا ڈرارمہ پیش کیا جائے۔

ڈرامے میں دکھایا گیا کہ جب ایک خاتون کو پولس گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیتی ہے تو اس کے گھروالے، خاص طور سے اس کے بچے، کن مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ان مشکلات سے نمٹنے کے لئے وہاں موجود ديگر قیدی سپریم کورٹ کے ان اصولوں کے بارے میں اس خاتون کو بتاتے ہیں۔

اس موقع پر سپریم کورٹ کے جج اریجت پساریتھ نے سپریم کورٹ کے ان نئے اصولوں کے مقاصد کے بارے میں بتایا: ’عدالت ان بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے جنہوں نے جیل میں جنم لیا ہے۔اور عدالت یہ نہیں چاہتی تھی کہ والدہ کی وجہ سے بچوں کا مستقبل متاثر ہو جائے۔‘

ماہرین کہتے ہیں
ماہرین کہتے ہیں اس قسم کے پروگرام سےکہیں نہ کہیں ان قیدیوں میں وہ انسان ابھر کر سامنے آتا ہے جو جیل کی دیواروں ميں قید رہتا ہے۔ قیدیوں کے لئے اس قسم کے پروگرام عام نہیں ہیں اور اپنے آپ کو انسان کی طرح پیش کرنےکے مواقع انہيں کم ہی ملتے ہیں۔

گزشتہ اٹھارہ برسوں سے تہاڑ جیل میں قید چندراوتی اور ہرکیشوری کے لۓ ایسا پروگرام پہلی بار ہو رہا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ اس سے قبل یہاں کبھی اس قسم کی سجاوٹ نہیں ہوئی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں اس قسم کے پروگرام سےکہیں نہ کہیں ان قیدیوں میں وہ انسان ابھر کر سامنے آتا ہے جو جیل کی دیواروں ميں قید رہتا ہے۔ قیدیوں کے لئے اس قسم کے پروگرام عام نہیں ہیں اور اپنے آپ کو انسان کی طرح پیش کرنےکے مواقع انہيں کم ہی ملتے ہیں۔

اسی بارے میں
سلاخوں کے پیچھے سے۔۔۔
11 November, 2003 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد