BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سلاخوں کے پیچھے سے۔۔۔

فلم کا منظر
تریسٹھ منٹ کی فلم بندی مہارت سے کی گئی ہے

لندن فلم میلے میں شامل ایک قابلِ ذکر پروڈکشن تھی بھارت کی سب سے بڑی جیل تہاڑ پر بننے والی ایک دستاویزی فلم ’ڈیز اینڈ نائٹ ان این انڈین جیل‘ یعنی ایک بھارتی جیل کے شب و روز۔

دہلی کی مشہور تہاڑ جیل پر بنی اس فلم کی ہدایت کاری سنندن والیا اور یوگیش والیا کی ہے۔

گیارہ ہزار قیدیوں والی اس جیل کو محض تریسٹھ منٹ کی فلم میں سمیٹنا کوئی آسان کام نہیں تھا مگر ہدایتکاروں نے اس فلم کو خاصی حد تک مختصر وقت میں سمونے کی کوشش کی ہے اور کئی کہانیاں بیک وقت اس فلم کا حصہ ہیں۔

پس پردہ مختلف قیدیوں کی داستانیں سناتی آواز آرٹ ملک کی ہے۔

ہدایت کاروں کے مطابق اس دستاویزی فلم کے لیے جیل سے کرداروں کا چناؤ آسان نہ تھا۔ ایک سال کی تگ و دو کے بعد وہ ایک بھارتی گھرانے کو اس بات پر قائل کر پائے کہ وہ اپنی آپ بیتی کو دستاویزی فلم کا حصہ بنا سکیں۔

بھابو وتی پرساد نامی ایک مالی، اس کی بیوی پریم پتا، بیٹے راما اور چار برس کی پشپا کو راما کی بیوی کو قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

تہاڑ جیل میں ایک سیل یا بیرک صرف ان ساسوں کی ہے جن پر اپنی بہوؤں کو جہیز کے معاملے میں قتل کر دینے کا الزام ہے جبکہ اس جیل میں عورتوں کی کُل تعداد پانچ سو ہے جبکہ پشپا جیسے چھوٹے بچے بھی اسی تعداد میں ہیں۔

جیل میں موجود ہر قیدی کی اپنی ہی ایک منفرد داستان ہے جسے والیا برادران نے بڑی مہارت سے مختصراً بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔

تاہم ہدایت کاری اور کیمرہ تکنیک سے بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فلم میں مزید باریکی سے کام لیا جا سکتا تھا۔

جیل کے ماحول کو بڑے دلچسپ انداز میں فلم بند کرنے کی کوشش کی گئی ہے خاص طور پر قیدیوں کی ہر ماہ ملاقاتوں میں قید کے لفظ کو تصویری رنگ و احساسات میں ڈھالنے کا کام بڑی خوبی سے کیا گیا ہے۔

اسی طرح جیل میں دیوالی اور اس موقعہ پر لوگوں کے جذبات، گھر والوں سے دوری، اگلے برس یہ تہوار اپنوں کے درمیان منانے کی تمنا اور ایک بےیقینی کی کیفیت، سبھی کچھ چند مناظر میں پیش کرنے کی کوشش خاصی حد تک بھرپور رہی ہے۔

لیکن ایک احساس جو مجھے مسلسل ہوتا رہا وہ یہ کہ اس دستاویزی فلم کے پس منظر میں استعمال ہونے والی موسیقی پر اگر مزید توجہ دی جاتی تو تہاڑ جیل میں قید افراد کی داستانیں خاصا گہرا تاثر چھوڑ سکتی تھیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد