BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 February, 2007, 17:30 GMT 22:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یو پی حکومت غیر قانونی ہے‘

ملائم سنگھ
ملائم سنگھ کی حکومت پر خطرے کے بادل منڈلانے لگے ہیں
ریاست اترپردیش میں ملائم سنگھ یادو کی حکومت کے رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں سرگرمیاں جاری ہیں اور کانگریس نے اتر پردیش حکومت کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اسے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ریاست کے وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو نے 26 فروری کو اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے جس میں وہ اپنی اکثریت ثابت کرنے والے ہیں۔

حال ہی میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں بہوجن سماج پارٹی کے ان تیرہ ارکان اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کا حکم دیا تھا جن کی حمایت سے 2003 میں ملائم سنگھ یادو کی حکومت بنی تھی۔

کانگریس کے سینئر رہنما اور اتر پردیش کانگریس کے صدر سلمان خورشید نے سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے ملائم سنگھ یادو کی حکومت کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ غیر قانونی حکومت کو قانونی طریقے سے ہٹا دینا چاہیے‘۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کابینہ کے وزير اور سرکردہ وکیل کپل سبل نے کہا ’عدالت کے فیصلے سے صرف تیرہ نہیں بلکہ اس معاملےمیں ملوث سبھی 37 ارکان اسمبلی کی رکنیت ختم ہوگئی ہے‘۔

بی جے پی کے سینئر رہنما مختار عباس نقوی نے بھی صحافیوں کو بتایا ’اتر پردیش اسبملی میں بی جے پی کے جن دس ارکان نے راجیہ سبھا کے انتخابات کے دوران ملائم سنگھ یادو کی حمایت میں ووٹ دیا ہے ان کی رکنیت ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ وہ اس وقت ووٹ نہ دے پائیں جب ملائم سنگھ یادو اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کریں گے‘۔

تاہم مارکس وادی کمیونسٹ جو مرکزی حکومت کو باہر سے حمایت فراہم کر رہی ہے اس حوالے سے کانگریس کا ساتھ دیتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے۔ مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما سیتاراح یچرور نے ملائم سنگھ کی حکومت کی برطرفی کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے ’ملائم سنگھ یادو کو اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کا موقع ملنا چاہیے‘۔

اراکینِ کی نااہلی کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ چودہ فروی کو آیا تھا اور اس کے بعد سے ہی ملائم سنگھ کی حکومت پر خطرے کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ تاہم اتر پردیش کے وزیراعلی ملائم سنگھ یادو نے واضح کر دیا ہے کہ ان کے استعفٰی دینے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

دوسری جانب اطلاعات کے مطابق اتر پردیش کے گورنر ٹی وی راجیشور نے مرکزی حکومت کو اس معاملے کی رپورٹ بھیج دی ہے اور مرکزی حکومت ملائم سنگھ یادو کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے سبھی پہلوؤں پر غور کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
ملائم کو عدالت کا نوٹس
09 January, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد