BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 April, 2007, 21:06 GMT 02:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یو پی میں مسلمان اقلیت نہیں‘

اس فیصلے پر مسلمانوں میں تحفظات پائے جاتے ہیں
بھارت کی ریاست اترپردیش میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ اترپردیش میں مسلمان اقلیت نہیں ہیں اور مرکزی حکومت کو قانون میں ترمیم کرنی چاہیے۔

عدالت نے یہ فیصلہ غازی پور ضلع کے ایک مدرسہ ’انجمن دہرہ کلاں‘ کی ایک عرضی پر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کئی اقلیتی مدرسوں کو سرکاری گرانٹ رشوت لے کر دی گئی ہے اور ان کی درخواست کو سرکاری اہلکاروں نے رشوت نہ ملنے پر نا منظور کردیا ہے۔

عدالت نے اس شکایت کی تحقیقات کی ہدایت حکومت اترپردیش کو دی اور ساتھ ہی مرکزی حکومت کو 1993 کے اس حکم نامے کو درست کرنے کی ہدایت دی ہے جس کے تحت مسلم اداروں کو اقلیتی درجہ دیا جاتا ہے۔

جسٹس شمبھوناتھ شریواستوا کی ایک رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ 2001 کی مردم شماری کے مطابق اترپردیش میں مسلمانوں کی تعداد اٹھارہ فیصد ہے اور مغربی اترپردیش کے اضلاع جیسے رام پور میں مسلمانوں کی آبادی پچاس فیصد سے بھی زیادہ ہے اس لیے مسلمانوں کو مذ ہبی اقلیت نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔

مسلمان رہنماؤں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے

عدالت نے کہا ہے کہ تقسیم ہند کے بعد طے کیا گیا تھا کہ پانچ فیصد سے کم آبادی والے فرقے کو جن میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو سکتا ہے انہیں اقلیت مانا جائے گا۔ لیکن 2001 کی مردم شماری کے مطابق اعداد و شمار بدل گئے ہیں۔

ہائی کورٹ کے فیصلے پر مسلم دانشوروں نے حیرانی کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں ہی نظر ثانی کی اپیل داخل کرے۔

مسلم دانشور اور ہائی کورٹ کے سینیئر وکیل ظفر یاب جیلانی نے اپنے ردعمل میں کہا ہےکہ بینچ کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف ہے۔ 12 گست 2005 میں سپریم کورٹ نے پی ایم انعام دار کیس میں فیصلہ دیا تھا کہ کسی ریاست ميں وہ مذہبی کمیونٹی اقلیت شمار ہوں گی جن کی آبادی پچاس فیصد سے کم ہے۔اور اس سلسلے میں نہ ضلع کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی پورے ملک کو بلکہ ریاست بنیاد ہوگی۔

ظفر یاب جیلانی نے مزید کہا کہ اس لیے کشمیر میں ہندو اقلیت میں ہیں اور پنجاب میں سکھ اکثریت قرار دیۓ گئے ہیں۔ شیعہ رہنما مولانا کلب صادق جواد نے کہا ’یہ فیصلہ افسوسناک ہے اور اس کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی۔

مسلمانوں کے مسائل
مولوی با اثر یا جدید طبقہ
انڈیا کے مسلم قیدی
انڈین جیلوں میں مسلمانوں میں اضافہ
ریزرویشن کی بحث
’ہندوستان میں 70 فیصد مسلمان پسماندہ‘
معیشت اور مسلمان
ترقی کے عمل میں انڈین مسلم پیچھے رہ گئے
اسی بارے میں
مسلم خواتین کی سست رفتار
08 February, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد