’یو پی میں مسلمان اقلیت نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست اترپردیش میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ اترپردیش میں مسلمان اقلیت نہیں ہیں اور مرکزی حکومت کو قانون میں ترمیم کرنی چاہیے۔ عدالت نے یہ فیصلہ غازی پور ضلع کے ایک مدرسہ ’انجمن دہرہ کلاں‘ کی ایک عرضی پر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کئی اقلیتی مدرسوں کو سرکاری گرانٹ رشوت لے کر دی گئی ہے اور ان کی درخواست کو سرکاری اہلکاروں نے رشوت نہ ملنے پر نا منظور کردیا ہے۔ عدالت نے اس شکایت کی تحقیقات کی ہدایت حکومت اترپردیش کو دی اور ساتھ ہی مرکزی حکومت کو 1993 کے اس حکم نامے کو درست کرنے کی ہدایت دی ہے جس کے تحت مسلم اداروں کو اقلیتی درجہ دیا جاتا ہے۔ جسٹس شمبھوناتھ شریواستوا کی ایک رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ 2001 کی مردم شماری کے مطابق اترپردیش میں مسلمانوں کی تعداد اٹھارہ فیصد ہے اور مغربی اترپردیش کے اضلاع جیسے رام پور میں مسلمانوں کی آبادی پچاس فیصد سے بھی زیادہ ہے اس لیے مسلمانوں کو مذ ہبی اقلیت نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ تقسیم ہند کے بعد طے کیا گیا تھا کہ پانچ فیصد سے کم آبادی والے فرقے کو جن میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو سکتا ہے انہیں اقلیت مانا جائے گا۔ لیکن 2001 کی مردم شماری کے مطابق اعداد و شمار بدل گئے ہیں۔ ہائی کورٹ کے فیصلے پر مسلم دانشوروں نے حیرانی کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں ہی نظر ثانی کی اپیل داخل کرے۔ مسلم دانشور اور ہائی کورٹ کے سینیئر وکیل ظفر یاب جیلانی نے اپنے ردعمل میں کہا ہےکہ بینچ کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف ہے۔ 12 گست 2005 میں سپریم کورٹ نے پی ایم انعام دار کیس میں فیصلہ دیا تھا کہ کسی ریاست ميں وہ مذہبی کمیونٹی اقلیت شمار ہوں گی جن کی آبادی پچاس فیصد سے کم ہے۔اور اس سلسلے میں نہ ضلع کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی پورے ملک کو بلکہ ریاست بنیاد ہوگی۔ ظفر یاب جیلانی نے مزید کہا کہ اس لیے کشمیر میں ہندو اقلیت میں ہیں اور پنجاب میں سکھ اکثریت قرار دیۓ گئے ہیں۔ شیعہ رہنما مولانا کلب صادق جواد نے کہا ’یہ فیصلہ افسوسناک ہے اور اس کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی۔ |
اسی بارے میں انڈیا: بلند معیشت، پست مسلمان08 February, 2007 | انڈیا مسلم خواتین کی سست رفتار08 February, 2007 | انڈیا کشمیر: ’مسلم پرسنل لا‘ بل منظور16 February, 2007 | انڈیا گودھرا فسادات کے’مثبت‘ اثرات 28 February, 2007 | انڈیا گجرات: خوف کے مسلسل پانچ سال02 March, 2007 | انڈیا پولیس کو اسلام کے بارے میں معلومات03 March, 2007 | انڈیا ’راہل بیان مذہبی جذبات کی توہین‘20 March, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||