BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 February, 2007, 18:26 GMT 23:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گودھرا فسادات کے’مثبت‘ اثرات
گودرہ فسادات نے مسلمان عورتوں کو گھروں سے نکلنے پر مجبور کر دیا
فیروزہ شیخ میونسپل کمیٹی سائینولی کی منتخب ممبر ہیں۔ بھارت میں عورت کا ممبر منتخب ہونا کوئی انہونی بات نہیں ہے بلکہ گودھرا فسادات میں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد عورتوں کا سرگرم عمل ہونے کی ایک نشانی ہے۔

فیرزہ شیخ کا سیاست میں آنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا اور نہ ہی فیروزہ شیخ زیادہ پڑھی لکھی ہیں۔وہ کہتی ہیں’میں نے ایک نرسنگ کورس کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے۔‘

لیکن یہ سب کچھ چھببس فروری 2002 سے پہلے کی بات ہے جب انسٹھ ہندوؤں کے ٹرین میں جل کر مرنے کے بعد گجرات میں فسادات پھیل گئے جن میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا۔

فسادات میں جو مسلمان بچ گئے ان کو منظر عام سے ہٹنا پڑا اور خواتین کے پاس خود منظر عام پر آنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں تھا۔

فیروزہ شیخ کو بھی دوسری مسلمان عورتوں کی طرح گھر سے نکلنا پڑا۔ انہوں نے فسادات کے متاثرین کے لیے قائم کیےگئے عارضی کیمپوں میں کام شروع کر دیا۔

جب فسادات ختم ہوگئے اور کیمپ بھی بند کر دیئےگئے تو فیروزہ شیخ نے بے گھر عورتوں کے لیے کام شروع کر دیا۔

فیروزہ شیخ کو اپنے کام کی وجہ سے کئی انعام ملے سکالرشپ ملے۔ سب سے بڑا انعام ان کو پچھلے سال ملا جب وہ مونسپل کارپوریشن کی رکن منتخب ہوئیں۔

گجرات کے فسادات کا مسلمانوں پر منفی اثرات پر بہت لکھا گیا ہے لیکن ان فسادات کے کچھ مثبت نتائج بھی نکلے ہیں۔

فیروزہ شیخ نے برقعہ اتار پھینکا ہے

دانشور جے ایس بندوق والا کا کہنا ہے کہ مسلمان عورتوں نےگھر سے باہر نکل کر اپنے حقوق کے لیے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس سے پہلے انہوں نے کبھی اتنی تعداد میں مسلمان عورتوں کو آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔

گودھرا فسادات نے مسلمان عورتوں کو برقعے سے نکل کر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر مجبور کر دیا۔

ذکیہ جوہر کا کہنا ہے کہ حالات نےانہیں برقعہ اتار کر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر مجبور کر دیا۔گودھرا کی بے شمار عورتوں کو اپنے مردوں کے لیے قانونی جنگ لڑی۔

لطیفہ یوسف گیتالی بھی ان عورتوں میں سے ہیں جنہیں حالات نے سماجی کارکن بنا دیا۔لطیفہ اب گودھراکے مسلمان علاقے میں ایک سکول چلاتی ہیں جہاں ڈیڑھ سو طالبعلم تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

لطیفہ یوسف کے سکول ’یونائیٹڈ اکنامک فورم پبلک سکول‘ میں تعلیم انگریزی زبان میں دی جاتی ہے اور مذہبی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ لطیفہ یوسف کا کہنا کہ بچوں کے والدین کو مذہبی تعلیم نہ دینے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

یونائیٹڈ اکنامک فورم پبلک سکول کے ایک طالبعلم کے والد محمد اقبال خان کا کہنا ہے ’میں نے مذہبی تعلیم حاصل کی لیکن اس کا کوئی فاہدہ نہیں ہوا ہے۔ آج میں رکشہ چلاتا ہوں۔‘

البتہ لطیفہ گیتالی کو خدشہ ہے کہ ان کا سکول بند ہو جائے گا۔’گجرات میں مسلمانوں کو اوسطاً ماہانہ آمدنی صرف پندرہ سو روپے ہے اور اگر ہم نے ان سے فیس کا مطالبہ کیا تو وہ بچوں کو سکول بھیجنا بند کر دیں گے۔‘

شریفہ رزاق کی بیٹی رضوانہ کو اپنی ماں کی سماجی خدمات پر اعتراض ہے

لطیفہ گیتالی اور شریفہ رزاق گودھرا کے جانے پہچانے نام ہیں۔ فسادات میں متاثر ہونے والے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ لطیفہ اور شریفہ نے مشکل حالات میں ان کی مدد کی۔

لیکن شریفہ رزاق کی بیٹی رضوانہ اپنے ماں کے سماجی کام سے نالاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی ماں کے سماجی کام کی وجہ سے وہ معاشرے میں تنہا ہو گئی ہیں اور حکومت ان کے خاندان کے لیے مشکلات پیدا کرتی رہتی ہے۔

رضوانہ کہتی ہیں کہ ان کے والد کو انتظامیہ نے ایک سال تک قید رکھا اور پولیس اور خفیہ ادارے ان کی خاندان کی نگرانی کرتے ہیں۔

گودھرا کے واقعات نےعورت کو سماج میں اپنی پوزیشن کو بہتر کرنے کا موقع دیا گیا لیکن سب کے حالات بہتر نہیں ہوئے ہیں اور ان کے راستے میں خاندان کے مرد روڑے اٹکا رہے ہیں۔

اسی بارے میں
گودھرا، یہ کیسی سزا؟
28 February, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد