’راہل بیان مذہبی جذبات کی توہین‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتیہ جنتا پارٹی نے منہدم بابری مسجد سے متعلق کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے بیٹے اور رکن پارلیمان راہل گاندھی کے بیان کو ’ہندوؤں کے جذبات کی توہین‘ قرار دیا ہے۔ راہل گاندھی نے پیر کو مسلمانوں کی آبادی والے علاقے دیو بند میں انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ اگر ان کے خاندان کا کوئی بھی فرد انیس سو بانوے میں سیاست میں فعال ہوتا تو ایودھیا کی بابری مسجد منہدم نہ ہوتی ۔ بی جے پی کے سینئر رہنما وجے کمار ملہوترا نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بہت تکلیف کی بات ہے کہ راہل اور ان کی پارٹی’مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے اس حد تک ہندوؤں کے جذبات کی توہین کر سکتے ہیں‘۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ گاندھی خاندان منہدم بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کے خلاف ہے۔
وجے ملہوترا نے کہا کہ راہل کو شاید یہ پتہ نہیں ہے کہ ان کے نانا جواہر لال نہرو نے ہی بابری مسجد میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگائی تھی اور خود ان کے والد راجیوگاندھی نے ہندو عقیدت مندوں کے لیے اس کا تالا کھلوایا تھا۔ ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد چھ دسمبر انیس سو بانوے میں ہندوؤں کے ایک ہجوم نے منہدم کر دی تھی۔ اس وقت مرکز میں وزیراعظم نرسمہا راؤ کی قیادت میں کانگریس کی حکومت تھی جبکہ ریاست اتر پردیش میں بی جے پی کا اقتدار تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت منہدم بابری مسجد کے مقام کو جوں کا توں برقرار رکھا گیا ہے لیکن مندر مسجد کا یہ تنازعہ اکثر قومی اور ریاستی سیاست میں گرمی پیدا کرتا رہا ہے۔ اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور راہل نے اپنا بیان انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے ایک گروپ کو خطاب کرتے ہوئے دیا تھا ۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اتر پردیش میں کانگریس اپنا اثر کھونے کے تقریباً دو دہائی بعد ریاست میں اپنے پیر دوبارہ جمانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن بابری مسجد جیسے متنازعہ موضوعات سے اسے کوئی خاص فائدہ ہونے کی توقع نہیں ہے۔ سرکردہ تجزیہ کار پردیپ سنگھ کہتے ہیں’مندر مسجد جیسے موضوعات سے رائے دہندگان کو اپنی طرف راغب نہیں کیا جا سکتا یہاں تک کہ بی جے پی بھی انتخابات میں سخت گیر ہندوئیت سے دامن بچا رہی ہے کیونکہ اس سے ووٹر منقسم ہو جائیں گے اور مسلمانوں کا ووٹ اجتماعی طور پر وزیراعلٰی ملائم سنگھ کی حریف جماعت کو جا سکتا ہے جبکہ ہندو ووٹ مندر کے نام پر اجتماعی طور پر بی جے پی کے پاس نہیں آئے گا‘۔ اس مرحلے پر کانگریس، بی جے پی اور دیگر جماعتوں کی حکمت عملی یہی ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ کو ہر حالت میں تقسیم کیا جائے کیونکہ اس سیاسی تدبیر میں کامیابی ہی ملائم سنگھ یادو کو اقتدار سے ہٹا سکتی ہے۔ | اسی بارے میں بی جے پی اور جے ڈی یو کا اتحاد11 March, 2007 | انڈیا ’قوم پرستی کی جانب واپسی‘23 December, 2006 | انڈیا بابری مسجد: عدالت خاموش ہے06 December, 2006 | انڈیا ہندوستانی مسلمان، پسماندگی کا بھنور25 November, 2006 | انڈیا ایودھیا مقدمہ کی سماعت منتقل 10 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||